مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کے مابین مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے چین نے اپنا نمائندہ خصوصی خطے میں بھیجنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اس حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ بیجنگ تنازعات کے پرامن حل کے لیے سعودی عرب کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اور متحارب فریقین کو شہریوں کے تحفظ کو کسی صورت عبور نہیں کرنا چاہیے۔ چین نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی تنصیبات اور غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ انسانی بحران اور معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔
وانگ ای نے بحیرہ روم اور بحرِ ہند سمیت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاز رانی کے لیے بحری راستوں کی سلامتی ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ چین کے اس اقدام کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔