افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ برائے خارجہ تعلقات علی ناظری نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال ایران سے مختلف ہے اور طالبان کی سخت کارروائیوں کے باعث عوام کے لیے ایران کی طرح بڑے پیمانے پر احتجاج کرنا ممکن نہیں۔
برطانوی صحافی یلدا حکیم کے سوال کے جواب میں علی ناظری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا
“آپ افغانستان کا ایران سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ افغانستان میں لوگوں کو بے رحمی سے دبایا جاتا ہے۔ اگر چند درجن افراد بھی جمع ہو جائیں تو طالبان ان پر فائرنگ کر دیتے ہیں، اسی لیے ایران جیسے بڑے عوامی احتجاج یہاں تقریباً ناممکن ہیں۔”
علی ناظری کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سیاسی آزادیوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور عوام کو کھلے عام احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا:
“طالبان کے دور میں افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے، جو خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔”
ناظری کے مطابق طالبان کی پالیسیوں کے باعث نہ صرف افغانستان کے اندرونی حالات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
دیکھئیے:طالبان کمانڈر کا متنازع بیان: مالی امداد کے عوض ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی مشروط پیشکش