تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

عالمی تیل بحران کے باوجود پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ محدود رکھا گیا، سرکاری ذرائع

اگر عالمی قیمتوں کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تو یٹرولیم مصنوعات میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ محدود رکھا گیا

پاکستان میں روزانہ تقریباً 76,313,901 لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہ کرنے کے فیصلے کے تحت حکومت روزانہ تقریباً 4.19 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے

March 8, 2026

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے عالمی دباؤ کا مکمل اثر عوام پر منتقل کرنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 106.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 150 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر پاکستان میں منتقل کیا جاتا تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 76,313,901 لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہ کرنے کے فیصلے کے تحت حکومت روزانہ تقریباً 4.19 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے

حکام کے مطابق ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ تمام پٹرول پمپ کھلے ہیں، ذخائر دستیاب ہیں اور سپلائی چین مستحکم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی قلت یا بحران کا خدشہ نہیں۔

وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایندھن کی بچت اور معاشی نظم و ضبط پر مبنی قابل عمل منصوبہ پیش کیا جائے تاکہ توانائی کے استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکے

مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر پیغام میں لکھا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ اور ٹیکسوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

دیکھئیے: عالمی جنگ کے معیشت پر تباہ کن اثرات؛ حکومت پاکستان نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا تاریخی اضافہ کر دیا

متعلقہ مضامین

تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *