اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے عالمی دباؤ کا مکمل اثر عوام پر منتقل کرنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 106.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 150 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر پاکستان میں منتقل کیا جاتا تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 76,313,901 لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہ کرنے کے فیصلے کے تحت حکومت روزانہ تقریباً 4.19 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے
حکام کے مطابق ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ تمام پٹرول پمپ کھلے ہیں، ذخائر دستیاب ہیں اور سپلائی چین مستحکم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی قلت یا بحران کا خدشہ نہیں۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایندھن کی بچت اور معاشی نظم و ضبط پر مبنی قابل عمل منصوبہ پیش کیا جائے تاکہ توانائی کے استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکے
How Oil/Petroleum Prices Are Determined
— Khurram Schehzad (@kschehzad) March 7, 2026
Some of the media factions and others have asked how petroleum prices are raised over entire inventory / reserves, while some have also got the opportunity to have their share of sensationalism without understanding how pricing works.…
مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر پیغام میں لکھا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ اور ٹیکسوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔