بدخشاں: افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کے مقامی گورنر مولوی اسماعیل غزنوی کی مبینہ سرپرستی میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے سونے کی کانوں سے بھتہ وصولی کا نیٹ ورک قائم ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تقریباً 100 مسلح افراد پر مشتمل ایک گروپ کان مالکان کو بھتہ دینے پر مجبور کر رہا ہے جبکہ انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گورنر کے ذاتی عملے سے تعلق رکھنے والے قاری ذکی کو اس مہم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے جو مختلف اضلاع میں سونے کی کانوں کا دورہ کر کے کان مالکان سے ٹی ٹی پی کے لیے رقوم جمع کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروپ میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے جنگجو شامل ہیں۔
شہرِ بزرگ ضلع میں قائم ایک نجی سونے کی کان کنی کمپنی کے سربراہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران صرف اسی ضلع سے ٹی ٹی پی کے لیے کم از کم 50 لاکھ افغانی جمع کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فردوس رحمان نامی ایک شخص نے اپنی کان سے بھتہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد اس کی کان سیل کر دی گئی اور اسے امارتِ اسلامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
اسی طرح ضلع جرم میں بھی چھوٹی بڑی سونے کی کانوں سے بھتہ جمع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں کان مالکان کو ٹی ٹی پی کے لیے رقوم فراہم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھئیے:افغانستان، ٹی ٹی پی اور سرحدی تنازعات؛ ملا یعقوب کا طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو کا تفصیلی جائزہ