اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان نے بھارت اور افغانستان کے نمائندوں کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی ملک کے پراپیگنڈے کی پرواہ نہیں کرے گا۔
بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ
عاصم افتخار احمد نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو بھارت جیسے ملک سے لیکچر لینے کی کوئی ضرورت نہیں جو خود بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، اقلیتوں کو منظم طریقے سے پسماندہ کر رہا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان کی آبادی کو بھوکا مارنے کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی مندوب نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی افغان پالیسی کا واحد مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، جس کے لیے وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔
افغان نمائندے پر کڑی تنبیہ
افغانستان کے نام نہاد نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ درحقیقت کسی کی نمائندگی نہیں کرتے اور محض اپنے ذاتی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں بیٹھے ہوئے یہ لوگ زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز افغان عوام کے خلاف نہیں، بلکہ افغان سرزمین سے ہونے والی ان دہشت گرد کاروائیوں کے خلاف ہیں جن سے پاکستان کے شہری، سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
پاکستان کا دو ٹوک پیغام
عاصم افتخار نے عالمی برادری کو باور کرایا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے، تاہم طالبان حکومت کو انسدادِ دہشت گردی، جامع حکمرانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف اپنی تخریب کاری اور پراکسی وار بند کرے، کیونکہ پاکستان اس قسم کے کسی بھی ‘خطرناک کھیل’ کو اپنے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔