مودی کی بھارتی حکومت لندن میں قائم ادارے ”کشمیر سینٹر لندن” کی ویب سائٹ کو بھارت اور جموں و کشمیر میں بار بار بلاک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔مبصرین مودی حکومت کے اس اقدام کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کے ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توجہ اور تنقید کے خوف سے جوڑ رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکام نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مذکورہ ویب سائٹ تک رسائی محدود کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
قابض حکام کا موقف ہے کہ ویب سائٹ کا مواد بھارت کی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔دوسری جانب کشمیر سینٹر لندن نے بھارتی حکومت کے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا تمام کام بین الاقوامی قانون،اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قراردادوں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی مستند رپورٹس پر مبنی ہے۔تنظیم کے مطابق اس کی رپورٹنگ اور تجزیوں کا مقصد کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کو اجاگر کرنا ہے جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے اورکشمیریوں کو ان کے اس پیدائشی حق کی ضمانت اقوام متحدہ نے اپنی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کی ہے۔
کشمیر سینٹر کے مطابق اس کی تحریریں اور تجزیے بین الاقوامی اداروں اور آزاد مبصرین کی جانب سےجموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق سامنے آنے والی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ویب سائٹ بلاک کرنے کی مودی حکومت کی کوششوں پر ردعمل دیتے ہوئے کشمیر سینٹر کے ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام کا بقا، وقار اور انصاف کا حق نہ صرف بین الاقوامی قانون یا اقوام متحدہ کی قراردادوں تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔
ویب سائٹ کو بلاک کرنے کی کوششیں آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے حق کومحدود کرنے کے مترادف ہیں اور یہ اقدامات جموں و کشمیر اور بیرون ملک کشمیریوں کے خلاف فکری دبائو اور اختلافِ رائے کو دبانے کی مودی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہیں۔