پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں یہ حوصلہ موجود ہے کہ جو بھی عمل غلط ہو اس کی مذمت کی جائے، چاہے وہ کسی کی جانب سے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر ضروری اقدامات خطے کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ایران کی خود مختاری
اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان برادر ملک ایران کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والا حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی سنگین خطرے میں ڈال دی
شدید انسانی بحران
پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عاصم افتخار نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں مقیم لاکھوں پاکستانی شہری اس کشیدہ ماحول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مذاکرات اور سفارتکاری
پاکستان نے سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی حمایت کی جس میں ایران سے اپنے حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف غیر ضروری فوجی کارروائیوں کا مخالف ہے۔