ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو جس میں اپوزیشن رہنما علامہ راجہ ناصر عباس کو پاکستان کی فضائی حدود امریکا کو دینے کا الزام لگاتے دکھایا گیا ہے، جعلی قرار دی گئی ہے۔
تحقیقی جائزے کے مطابق یہ ویڈیو دراصل 27 جولائی 2024 کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو سے لی گئی ہے جو ایران پر حالیہ حملوں سے بہت پہلے کا ہے۔
اصل انٹرویو کی مکمل ریکارڈنگ کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ علامہ ناصر عباس نے کہیں بھی پاکستان کی فضائی حدود امریکا کو دینے یا اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے گئے تجزیے میں بھی وائرل کلپ کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جانے کے شواہد ملے، جبکہ ویڈیو میں لبوں کی حرکت اور آواز کے درمیان واضح تضاد بھی دیکھا گیا۔
اس کے علاوہ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) مواد کی شناخت کرنے والے پلیٹ فارم ہائیو ماڈریشن نے بھی اس ویڈیو کلپ کو 99.7 فیصد کا مجموعی اسکور دیا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
نتیجتاً یہ ثابت ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ کلپ ایڈٹ کیا گیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ہے، جبکہ اس میں منسوب کیا گیا بیان درست نہیں۔
دیکھئیے:فیکٹ چیک: دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں پاکستان اور آئی ایس آئی پر الزامات بے بنیاد نکل