پاکستان نے افغانستان میں انٹیلی جنس پر مبنی فضائی آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان کے چار اہم ٹھکانوں اور ان سے منسلک عسکری ڈھانچوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ کاروائی ایسے وقت میں کی گئی جب پاکستان کے شمال مغربی ضلع لکی مروت میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے، جس کا شبہ کالعدم ٹی ٹی پی پر کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، پاکستانی طیاروں نے صرف دہشت گردوں کے کیمپوں کو ہدف بنایا اور کسی بھی شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
طالبان انتظامیہ کا مؤقف اور الزامات
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں میں چھ شہریوں کی ہلاکت اور بارہ کے زخمی ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ افغان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب ‘کام ایئر’ کے ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا جو اقوام متحدہ کے طیاروں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، پاکستانی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی حدود میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر حد تک جانے کا حق رکھتا ہے اور عسکریت پسندوں کے مراکز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر زرداری کی تنبیہ: ‘سرخ لکیر عبور ہو چکی’
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے شہری علاقوں پر افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ “افغان طالبان نے شہری اہداف پر ڈرونز کا استعمال کر کے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین کا ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابلِ قبول ہے، اور پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
وزارتِ اطلاعات کا فیکٹ چیک
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جاری کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی من گھڑت اطلاعات کا فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے عالمی قوانین کے مطابق صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو سرحد پار سے حملوں میں ملوث تھے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔