خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے مبصرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان سے پاکستان میں سرحد پار حملوں کے واقعات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں خودکش حملوں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے علاقائی سلامتی کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان اپنی سرزمین سے شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہتا ہے تو اس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو علاقائی تجارت اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ بننے کے بجائے سرحد پار عسکریت پسندی سے جوڑ کر دیکھے جانے کا تاثر خطے کی سیکیورٹی کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق علاقائی امن کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی سرحد پار عسکری سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے سے روکے تاکہ خطے میں اعتماد اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
دیکھئیے:خطے کے بحرانوں کی جڑ: طالبان کی پالیسیاں اور افغانستان کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال