بھارت نے فروری 2026 میں ایران سے منسلک اور امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے تین آئل ٹینکر ضبط کر لیے تھے، جس کے بعد خطے میں بحری کشیدگی اور سفارتی تناؤ پر نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے ردعمل میں بھارت کے دو ایل این جی جہاز روک لیے اور واضح کیا کہ بھارتی جہازوں کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بھارت ضبط کیے گئے تین ایرانی جہاز واپس نہیں کرتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا جس کے تحت بھارت نے تین ایرانی جہاز واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
اس پیش رفت کے بعد ایران نے دو بھارتی ایل این جی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی اور دونوں جہاز محفوظ طور پر اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر کر بھارت کی جانب روانہ ہو گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی حکام نے مشتبہ سرگرمیوں کے بعد ممبئی کے قریب اپنی سمندری حدود میں تین ٹینکرز کو روک کر تحقیقات کیلئے تحویل میں لے لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ضبط کیے گئے ٹینکرز کے نام اسٹیلر روبی، اسفالٹ اسٹار اور الجافزیا بتائے جاتے ہیں، جو بار بار اپنی شناخت تبدیل کر رہے تھے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی سے بچ سکیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی کو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے حساس سمجھا جاتا ہے۔
دیکھئیے:دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جائز اور ضروری، بھارتی الزامات شرمناک حد تک منافقانہ ہیں؛ وزارت خارجہ