کسی بھی شہری اور محبِ وطن فرد کے لیے اس کی اپنی ریاست اور دھرتی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا کیونکہ ارض پاک سے وابستگی اور ریاست کی بقا ہی فرد کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت اس کے برعکس صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں قومی مفادات پر ذاتی اور گروہی بیانیے غالب نظر آتے ہیں۔ ملکی دفاعی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا ریاست کی “ماں جیسی نرمی” کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؟
ریاست کی نرمی اور داخلی انتشار
یہاں اس تضاد کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ نیز جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سکردو میں دو فوجی جوانوں کا قتل، ملک کے بڑے شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور ملکی و عسکری سربراہان کو برسرِمنبر دی جانے والی دھمکیاں اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک مخصوص گروہ نے احتجاج اور مظلومیت کی آڑ میں پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ریاست کے خلاف زہر اگل کر ملکی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ واقعات جہاں رونما ہوئے، یعنی ایران میں، وہاں اس شدت کے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے، جبکہ پاکستان میں اس کی آڑ میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آذربائیجان بمقابلہ پاکستان
اس صورتحال کا موازنہ آذربائیجان سے کیا جا رہا ہے، جہاں 65 فیصد سے زائد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن وہاں نہ تو کوئی احتجاجی لہر اٹھی اور نہ ہی اداروں کو اشارتاً یا کنایتاً کوئی دھمکی دی گئی۔ یہ مثال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دیگر ممالک میں شہری اپنی ریاست اور اداروں کے نظم و ضبط کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔
ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی و تزویراتی تعلقات استوار کر رہا ہے اور بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔
محاسبے کا وقت
عوامی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کے اندر بیٹھ کر اپنے ہی ملک اور اداروں کے خلاف سازش کرنے والے ان عناصر کا محاسبہ کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ “پاکستان سب سے پہلے” کے اصول کو اپنایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ریاست کی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جب ہر ملک اپنی پالیسیاں اپنے فائدے کے گرد مرتب کرتا ہے، تو پاکستانی شہریوں کو بھی کسی بیرونی وابستگی کے بجائے صرف اپنی ریاست کی مضبوطی اور وقار کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان