پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

ریاست مقدم ہے: ملکی اداروں کے خلاف دھمکیوں اور داخلی انتشار کا محاسبہ ناگزیر قرار

ایران اپنے قومی مفاد میں بھارت سے تعاون کر رہا ہے، وہیں پاکستان میں مخصوص عناصر کی جانب سے اپنی ہی ریاست کو نشانہ بنانا تشویشناک امر ہے
ایران اپنے قومی مفاد میں بھارت سے تعاون کر رہا ہے، وہیں پاکستان میں مخصوص عناصر کی جانب سے اپنی ہی ریاست کو نشانہ بنانا تشویشناک امر ہے

آذربائیجان کی مثال اور ایران کے حالیہ تزویراتی فیصلوں کی روشنی میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر ملک کے لیے اس کا اپنا مفاد سب سے مقدم ہوتا ہے

March 16, 2026

کسی بھی شہری اور محبِ وطن فرد کے لیے اس کی اپنی ریاست اور دھرتی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا کیونکہ ارض پاک سے وابستگی اور ریاست کی بقا ہی فرد کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت اس کے برعکس صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں قومی مفادات پر ذاتی اور گروہی بیانیے غالب نظر آتے ہیں۔ ملکی دفاعی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا ریاست کی “ماں جیسی نرمی” کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؟

ریاست کی نرمی اور داخلی انتشار

یہاں اس تضاد کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ نیز جب ہمسایہ ملک ایران میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا پرتشدد ردِعمل پاکستان کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سکردو میں دو فوجی جوانوں کا قتل، ملک کے بڑے شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور ملکی و عسکری سربراہان کو برسرِمنبر دی جانے والی دھمکیاں اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک مخصوص گروہ نے احتجاج اور مظلومیت کی آڑ میں پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ریاست کے خلاف زہر اگل کر ملکی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ واقعات جہاں رونما ہوئے، یعنی ایران میں، وہاں اس شدت کے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے، جبکہ پاکستان میں اس کی آڑ میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آذربائیجان بمقابلہ پاکستان

اس صورتحال کا موازنہ آذربائیجان سے کیا جا رہا ہے، جہاں 65 فیصد سے زائد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن وہاں نہ تو کوئی احتجاجی لہر اٹھی اور نہ ہی اداروں کو اشارتاً یا کنایتاً کوئی دھمکی دی گئی۔ یہ مثال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دیگر ممالک میں شہری اپنی ریاست اور اداروں کے نظم و ضبط کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض عناصر ریاست کی ناجائز نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

ایرانی خارجہ پالیسی کی مثال بھی اس ضمن میں اہم ہے، جو خالصتاً اپنے قومی مفادات کے تابع ہے۔ ایران اپنے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی و تزویراتی تعلقات استوار کر رہا ہے اور بھارتی جہازوں کو اپنی گزرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ملک دوسرے کے جذبات کے لیے اپنے مفادات قربان نہیں کرتا۔

محاسبے کا وقت

عوامی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کے اندر بیٹھ کر اپنے ہی ملک اور اداروں کے خلاف سازش کرنے والے ان عناصر کا محاسبہ کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ “پاکستان سب سے پہلے” کے اصول کو اپنایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ریاست کی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جب ہر ملک اپنی پالیسیاں اپنے فائدے کے گرد مرتب کرتا ہے، تو پاکستانی شہریوں کو بھی کسی بیرونی وابستگی کے بجائے صرف اپنی ریاست کی مضبوطی اور وقار کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *