بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسر کرنل راجیش پوار نے پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا ایک مذموم اتحاد سرگرم عمل ہے، جو مل کر پاکستان کے امن و امان کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کرنل راجیش پوار کے مطابق اس تین فریقی گٹھ جوڑ میں ہر ملک کا کردار الگ الگ مگر ہدف ایک ہے۔ بھارت اس دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور فنڈز کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیل جدید ترین اسلحہ اور انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے اس اتحاد کو تقویت پہنچاتا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ ٹھکانے اور عسکری تربیت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ بھارت دہشتگردوں کی مالی معاونت کرتا ہے، اسرائیل جدید اسلحہ اور انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو محفوظ ٹھکانے اور تربیت دی جاتی ہے اور مقصد… pic.twitter.com/mUQYkpqgVw
— HTN Urdu (@htnurdu) March 16, 2026
بھارتی کرنل نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایٹمی قوت اور اس کی اسلامی شناخت دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں ممالک متحد ہو کر ملک کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم ان اعترافات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کسی داخلی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ سرحد پار سے منظم اور مسلط کردہ دشمنی ہے۔
کرنل پوار کا یہ اعتراف ان تمام عناصر کے لیے ایک آئینہ ہے جو پاکستان کے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ کا ذمہ دار خود پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، جس کے لیے انہیں اسرائیل اور افغانستان کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے۔
دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان