مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب؛ کرنل راجیش پوار کے تہلکہ خیز اعترافات

بھارتی کرنل راجیش پوار کا پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تہلکہ خیز اعتراف؛ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کا پردہ چاک
بھارتی کرنل راجیش پوار کا پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تہلکہ خیز اعتراف؛ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کا پردہ چاک

بھارتی کرنل (ر) راجیش پوار نے اعتراف کیا کہ بھارت، اسرائیل اور افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کی مالی و عسکری معاونت کر رہے ہیں

March 16, 2026

بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسر کرنل راجیش پوار نے پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا ایک مذموم اتحاد سرگرم عمل ہے، جو مل کر پاکستان کے امن و امان کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کرنل راجیش پوار کے مطابق اس تین فریقی گٹھ جوڑ میں ہر ملک کا کردار الگ الگ مگر ہدف ایک ہے۔ بھارت اس دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور فنڈز کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیل جدید ترین اسلحہ اور انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے اس اتحاد کو تقویت پہنچاتا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ ٹھکانے اور عسکری تربیت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

بھارتی کرنل نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایٹمی قوت اور اس کی اسلامی شناخت دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں ممالک متحد ہو کر ملک کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم ان اعترافات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کسی داخلی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ سرحد پار سے منظم اور مسلط کردہ دشمنی ہے۔

کرنل پوار کا یہ اعتراف ان تمام عناصر کے لیے ایک آئینہ ہے جو پاکستان کے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ کا ذمہ دار خود پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، جس کے لیے انہیں اسرائیل اور افغانستان کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے۔

دیکھیے: بدلتی ہوئی دنیا؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان

متعلقہ مضامین

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

November 6, 2026

اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

November 6, 2026

محسن رضائی نے پیوٹن سے ملاقات میں ایرانی قیادت کا پیغام پہنچانے کا دعویٰ کیا، تہران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے سات شرائط پوری کرنے پر اصرار کردیا۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *