امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بھارت کی بعض تنظیموں اور اداروں کے خلاف پابندیوں کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات تشویشناک ہیں۔ کمیشن نے خاص طور پر ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور بھارت کے بیرونی خفیہ ادارے را کے خلاف کارروائی پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں ایک بار پھر بھارت کو مذہبی آزادی کی صورتحال کے باعث خصوصی تشویش والے ممالک میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کے مختلف علاقوں میں مذہبی اقلیتوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے اور بعض ریاستی حکومتوں نے مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قوانین کو مزید سخت بناتے ہوئے سزاؤں میں اضافہ کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر حکام کی جانب سے شہریوں اور مذہبی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بے دخلی کے واقعات بھی سامنے آئے، جبکہ اقلیتوں کے خلاف ہجوم کے حملوں کو بھی برداشت کیا گیا۔ رپورٹ میں مہاراشٹر، اوڈیشہ اور اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
کمیشن نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اسلحے کی فروخت اور تجارتی روابط کو مذہبی آزادی کی صورتحال سے مشروط کرے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ قوانین کے تحت پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض حالیہ قوانین اقلیتی اداروں اور مذہبی گروہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی حکومت ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ نئی رپورٹ پر فوری طور پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم گزشتہ برس بھارتی وزارت خارجہ نے کمیشن کی رپورٹس کو متعصبانہ اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا تھا۔ بھارتی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ بھارت کا معاشرہ مذہبی تنوع اور ہم آہنگی کی مضبوط روایت رکھتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کو بدنام کرنے کی ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔