افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی دیگر صوبوں میں ممکنہ منتقلی نے 16 سالہ جمود کو توڑنے کی راہ ہموار کر دی ہے؛ ماہرین اسے عدالتی شفافیت اور روٹیشن پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

May 1, 2026

پاک افغان کشیدگی: چین کی سفارتی کوششیں اور پاکستان کا دوٹوک مؤقف

پاک افغان کشیدگی؛ چین کی ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف مگر دہشت گردی کے سدِباب کے لیے قابلِ تصدیق ضمانتوں اور مؤثر کاروائیوں پر اصرار
پاک افغان کشیدگی؛ چین کی ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف مگر دہشت گردی کے سدِباب کے لیے قابلِ تصدیق ضمانتوں اور مؤثر کاروائیوں پر اصرار

پاکستان کا دو ٹوک مؤقف؛ افغان سرزمین کے غلط استعمال، ٹی ٹی پی کا خطرہ اور دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کے مطالبہ

March 16, 2026

چین کی سفارتی کوششوں کے دوران پاکستان کا کابل کے ساتھ مذاکرات کو فی الحال ‘سفارتی وقفہ’ دینے کا فیصلہ دراصل اس تلخ حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ اب محض روایتی سفارت کاری سے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ چین کی جانب سے ثالثی کی مخلصانہ کاوشیں جو خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، بلاشبہ لائقِ ستائش اور قابلِ قدر ہیں۔ چین جو پاکستان کا ایک قریبی شراکت دار ہے، خطے میں ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے تاکہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ جیسے بڑے اقتصادی منصوبوں کو تحفظ مل سکے اور علاقائی تجارت کا فروغ ممکن ہو۔

تاہم اسلام آباد کا یہ دو ٹوک مؤقف کہ ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم گروہوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید اقدامات کے بغیر مذاکرات کا کوئی جواز نہیں، محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر اور دیانت دارانہ اقدام ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف کہ اسے کابل سے “قابلِ تصدیق ضمانتیں” درکار ہیں، ان برسوں کی ناکامیوں اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات کا نچوڑ ہے جن میں افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف تسلسل سے استعمال ہونا ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن کر ابھرا ہے۔

چین کی موجودہ سفارتی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ دونوں پڑوسیوں کے مابین اعتماد کی بحالی چاہتا ہے تاکہ خطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ بیجنگ کا ماننا ہے کہ افغانستان کو سیاسی اور اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے بجائے اسے علاقائی دھارے میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔ اس کے برعکس پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ اس نے برسوں تک سفارتی شائستگی اور ایک برادر ملک ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے کابل انتظامیہ کو دوستانہ اور مختلف مقامات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن جواب میں صرف “اندرونی مسئلہ” کہہ کر لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔ جب ریاست کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کے تحمل کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، تو پھر سفارت کاری کے بجائے ‘اصولی مؤقف’ کا اختیار کرنا بقا کا تقاضا بن جاتا ہے۔

چین کی ثالثی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ طالبان انتظامیہ پر ایک مخصوص اثر و رسوخ رکھتا ہے، اور پاکستان کو امید ہے کہ بیجنگ اپنی سفارتی ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے کابل کو اس بات پر قائل کرے گا کہ پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے بغیر علاقائی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا یہ واضح پیغام اب عالمی سطح پر ثبت ہو چکا ہے کہ خارجہ پالیسی کے تمام تر زاویے اب ‘پاکستان سب سے پہلے’ کے اصول پر استوار ہیں۔

پاکستان کے اس مؤقف کے پیچھے کارفرما وجوہات انتہائی مضبوط ہیں۔ پہلی وجہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال ہے۔ طالبان حکومت کا یہ اصرار کہ ٹی ٹی پی کا معاملہ پاکستان کا “اندرونی مسئلہ” ہے، نہ صرف سفارتی شائستگی کے منافی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹس کی بھی صریح نفی ہے۔ دوسری وجہ وعدہ خلافیوں کا طویل سلسلہ ہے۔ پاکستان نے نہ صرف افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کی بلکہ عالمی سطح پر طالبان حکومت کے لیے سفارتی وکالت بھی کی، مگر جواب میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی یا انہیں “پناہ” دینا پاکستان کے لیے ایک سکیورٹی بحران بن چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کا مذاکرات کا ڈرامہ محض دہشت گردوں کو مزید وقت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

تیسری اور سب سے اہم وجہ “ریاست کی بالادستی” کا سوال ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے ہی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو محض اس لیے معاف کر دے کہ وہ سرحد پار بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ اب خارجہ پالیسی کے ہر زاویے کی بنیاد ‘پاکستان سب سے پہلے’ کے اصول پر استوار ہے۔ اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں تو ہے، مگر اس امن کے لیے وہ اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔

اب تمام تر معاملات کابل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر طالبان انتظامیہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ مستقل امن، برادرانہ تعلقات اور خوشگوار ہمسائیگی کی خواہاں ہے تو اسے ٹی ٹی پی کے خلاف بلا امتیاز، ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی۔ چین کی سفارتی کوششیں اس وقت تک بار آور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک کابل اپنی پالیسیوں میں وہ بنیادی اور عملی تبدیلی نہ لائے جس کا تقاضا عالمی قوانین اور اچھے پڑوسی ہونے کے ناتے کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں بطریقِ احسن نبھائی ہیں، اب کابل کا امتحان ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا ہے یا اپنی تباہ کن پالیسیوں کو ہی جاری رکھتا ہے۔

دیکھیے: امریکی کمیشن کی بھارت پر سخت تنقید؛ آر ایس ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را پر پابندیوں کی سفارش کر دی

متعلقہ مضامین

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *