کابل حملہ؛ پاکستان نے بھارتی الزمات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شہری مقامات یا ہسپتال کو نشانہ بنانے کی تردید کر دی

سرکاری مؤقف کے مطابق سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
کابل حملہ؛ پاکستان نے بھارتی الزمات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شہری مقامات یا ہسپتال کو نشانہ بنانے کی تردید کر دی

پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد اپنی سرزمین اور شہریوں کو دہشتگردی سے محفوظ بنانا ہے۔

March 17, 2026

بھارت نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات کابل میں ایک ہسپتال پر بمباری کی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس مبینہ حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے بھارتی بیان کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ صرف دہشتگردی سے منسلک عسکری اہداف کے خلاف کی گئیں۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی شہری تنصیب، خصوصاً اسپتال، کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ تھا۔ پاکستان نے زور دیا کہ بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ان جگہوں پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود موجود تھا، جو کسی بھی صورت میں شہری یا طبی مرکز کی نشاندہی نہیں کرتا۔ مزید برآں آزاد ذرائع اور بعض مقامی ویڈیوز میں یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ آگ یا نقصان کے واقعات کو جان بوجھ کر اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا حالیہ بیان محض سفارتی دباؤ بڑھانے اور توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ خود بھارت کو طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، اور مسلم آبادی کے خلاف سخت اقدامات پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اسی طرح بھارت کے اندر بھی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن پر بین الاقوامی ادارے تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد اپنی سرزمین اور شہریوں کو دہشتگردی سے محفوظ بنانا ہے۔ حکام کے مطابق دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کرنے والی تنصیبات کے خلاف کارروائی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور مکمل احتیاط کے ساتھ کی گئی، جبکہ شہری نقصان سے ہر ممکن حد تک بچاؤ کو یقینی بنایا گیا۔

دیکھیے: کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی ایک بار پھر غیر ملکی سیاست سے امیدیں وابستہ کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عدالتی نظام پر ان تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *