دوشنبے: تاجکستان میں جاری ریاستی سرمایہ کاری منصوبوں میں بیرونی مالی معاونت پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، جہاں 82 بڑے منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 4.67 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں میں سے 55 گرانٹس، 5 قرضوں جبکہ 22 مشترکہ فنڈنگ کے تحت جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 3 ارب ڈالر سے زائد رقم پہلے ہی مختلف ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جا چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے ان منصوبوں کے بڑے سرمایہ کار ہیں، جن میں ورلڈ بینک 1.725 ارب ڈالر (36.9 فیصد) کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک 914.7 ملین ڈالر اور یورپی بینک برائے تعمیر و ترقی 658.1 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔
دیگر سرمایہ کاروں میں اسلامی ترقیاتی بینک، چین، ایشیائی انفراسٹرکچر بینک، جرمن اور یورپی سرمایہ کاری بینک شامل ہیں، تاہم مجموعی فنڈنگ کا 70 فیصد سے زائد حصہ صرف تین بڑے اداروں سے آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تاجکستان کی اپنی سرمایہ کاری محض 151.2 ملین ڈالر ہے، جو کل فنڈنگ کا صرف 3.2 فیصد بنتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے بڑے منصوبے بیرونی وسائل پر منحصر ہیں۔
حکام کے مطابق 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ کر 7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے نئے قوانین بھی متعارف کرائے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ بیرونی فنڈنگ سے بڑے منصوبوں کی تکمیل ممکن ہو رہی ہے، تاہم اس سے معیشت عالمی مالیاتی اداروں اور بیرونی شرائط پر زیادہ انحصار کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔
دیکھئیے:تعلیم دشمنی یا نسلی تطہیر، جوزجان میں ازبک خواتین اساتذہ کی چھانٹی