خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز اور پولیس نے ایک مشترکہ کاروائی میں عالمی دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ خراسان (داعش) سے وابستہ دو غیر ملکی کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق آذربائیجان سے ہے، جن کی شناخت کاظم غور اور محمد یونس کے نام سے ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی اداروں کو ضلع اورکزئی کے حساس علاقے میں مشتبہ افراد کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر فوری کاروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور ان غیر ملکیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں ملزمان دہشت گرد تنظیم داعش کے ‘خراسان چیپٹر’ کے لیے کام کر رہے تھے اور سرحد پار سے غیر قانونی طور پر اس علاقے میں داخل ہوئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے اہم نوعیت کی دستاویزات اور نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان افراد کی گرفتاری سے خطے میں دہشت گردی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔
فی الوقت ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے سخت تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے مقامی سہولت کار کون ہیں اور وہ کس بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
دیکھیے: ایران وفد کی پاکستان آمد کا دعویٰ جھوٹا، سوشل میڈیا پروپیگنڈا بے نقاب