امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

بھارتی صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں بھاری کمیشن کی نذر ہونے والے فنڈز کو بے نقاب کر دیا۔

August 22, 2026

چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

August 22, 2026

مذہبی لبادے میں آمریت؟؟ شریعت یا بادشاہت؟؟ افغانستان میں طالبان کا نظامِ حکومت کڑی عالمی تنقید کی زد میں آ گیا

افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو ‘مطلق العنان بادشاہت’ قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے ‘فرامین’ نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے
افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو 'مطلق العنان بادشاہت' قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے 'فرامین' نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے

طالبان کا نظام شریعت کی حقیقی روح (عدل، مساوات اور مشاورت) سے بعید ہو کر ایک جابرانہ شخصی اقتدار میں ڈھل چکا ہے

March 27, 2026

افغانستان میں طالبان کے موجودہ نظامِ حکومت پر ہونے والی حالیہ تحقیق نے ایک نئی بحث کو بحث دیا ہے کہ آیا یہ نظام واقعی ‘اسلامی شریعت’ کے اصول و منہج پر استوار ہے یا یہ مذہب کے لبادے میں ایک ‘مطلق العنان بادشاہت’ کی جدید ترین صورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت کوئی واحد مربوط و منظم حکومت نہیں بلکہ ایک پیچیدہ ‘متوازی حکومتی ڈھانچہ’ کام کر رہا ہے، جس نے کابل کی انتظامیہ کو محض ایک ذاتی ادارے میں بدل دیا ہے، جبکہ تمام تر حقیقی طاقت کا منبع قندھار میں مقیم ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ذات بن چکی ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی روایتی ریاستی نظم کے بجائے ایک شخصی نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں مذہب کو فقط تسلط کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان کا نظام دو متوازی مراکز میں تقسیم ہو چکا ہے، جس میں قندھار کابل کی انتظامیہ پر مکمل طور پر حاوی ہے۔ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور ان کی مخصوص علماء تمام تر بڑے نظریاتی اور تزویراتی فیصلے کرتے ہیں، جبکہ کابل میں مقیم کابینہ کے وزراء صرف روزمرہ کے امور چلانے تک محدود ہیں۔ اس تقسیم کے اثرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ کابل میں موجود عملیت پسند رہنماء جو عالمی برادری سے رابطے میں ہیں، قندھار کے سخت گیر فیصلوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ یہ اندرونی خلفشار اس بات کی علامت ہے کہ تحریک کے اندر ‘حکمِ حاکم’ اور ‘انتظامی ضرورت’ کے درمیان ایک گہری خلیج جنم لے چکی ہے۔

تاریخ اسلام اور شریعت محمدی میں ‘شوریٰ’ یا مشاورت کو کلیدی مقام حاصل ہے، لیکن طالبان کا موجودہ نظام اس کے برعکس ایک ‘مطلق العنان بادشاہت’ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس نظام میں تمام تر کلیدی تقرریاں اور پالیسیاں کسی اجتماعی مشاورت کے بجائے نام نہاد امیر المومنین ملا ہیبت اللہ کے براہِ راست زبانی احکامات یا فرامین سے طے پاتی ہیں۔ یہاں تک کہ بیعت کا تصور بھی اپنی اصل روح و وقعت کھو چکا ہے؛ مقامی قبائلی سرداروں اور علماء سے لی جانے والی بیعت اب ایک دینی عمل نہیں رہی بلکہ سیاسی وفاداری کا ایک ایسا جبری عہد بن چکی ہے جس سے انحراف کی صورت میں سنگین انجام کے خطرات ہوتے ہیں۔ محققین اسے ‘مذہبی آمریت’ قرار دیتے ہیں جہاں حکمران کسی بھی انسان، ادارے، پارلیمان یا عوامی فورم کو جوابدہ نہیں ہے۔

نمائندگی کے اعتبار سے بھی یہ نظام افغانستان کے کثیر القومی معاشرے کی عکاسی کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ ملک کی تقریباً 58 فیصد غیر پشتون آبادی، جس میں تاجک، ہزارہ اور ازبک شامل ہیں، اقتدار کے اصل مراکز سے مکمل طور پر باہر ہے۔ طاقت کا تمام تر ارتکاز قندھار کی مخصوص نسلی قیادت کے پاس ہے، جو قومی وحدت کے بجائے ‘نسلی بالادستی’ کے تصور کو تقویت دے رہا ہے۔ کابینہ میں چند غیر پشتون چہرے محض عالمی برادری کو دکھانے کے لیے رکھے گئے ہیں جنہیں کوئی حقیقی مالی یا انتظامی خود مختاری حاصل نہیں۔ شمولیت کے بجائے اس درجہ بندی نے افغان معاشرے میں احساسِ محرومی اور نسلی تقسیم کو ایک خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے۔

طالبان کا نظام انصاف کی فراہمی کے بجائے ‘نظریاتی یکسانیت’ اور ‘سماجی کنٹرول’ کا آلہ بن چکا ہے۔ قوانین میں موجود دانستہ ابہام طاقتور طبقے کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ عام شہری سخت ترین سزاؤں اور کڑی نگرانی کے تابع ہیں۔ فکری جبر کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو ‘بغاوت’ قرار دے کر کچل دیا جاتا ہے، جس سے معاشرے میں مکالمے کی جگہ خوف اور سوچ کی جگہ اندھی اطاعت نے لے لی ہے۔ اسلام جہاں فکری تنوع اور عدل کا درس دیتا ہے، وہاں اس نظام نے ایک سخت اور یک رُخی تعبیر مسلط کر کے مذہب کو محض دباؤ اور خاموشی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کا نظام شریعت کی حقیقی روح (عدل، مساوات اور مشاورت) سے بعید ہو کر ایک جابرانہ شخصی اقتدار میں ڈھل چکا ہے۔ یہ نظام عوامی رضامندی کے بجائے دھمکی اور طاقت پر قائم ہے، جس کی وجہ سے ملک مسلسل معاشی تباہی، سماجی پسماندگی اور بین الاقوامی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مذہب کے نام پر اقتدار کو جائز قرار دینے کی یہ کوشش نہ صرف افغان عوام کے لیے ایک المیہ ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر اسلامی حکمرانی کے تصور کو بھی بری طرح مسخ کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی حکمرانی ہے جہاں ایمان کی جگہ خوف اور انصاف کی جگہ شخصی مرضی کو فوقیت حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *