اس راہداری کے قیام سے نہ صرف دوطرفہ تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے لاتعداد نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومت پاکستان اس وقت تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے کلیدی شعبوں میں چین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

May 13, 2026

مندانا کریمی نے بھارت سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتقال کے بعد بھارت میں لوگ سڑکوں پر نکل کر ماتم کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں۔

May 13, 2026

سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرنا قانونی منطق سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فیصل سلیم کر رہے ہیں، کی جانب سے ایک ایسے ادارے کو جوابدہی کے لیے بلانا جو کیس کا مدعی ہے نہ تفتیشی، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

May 13, 2026

انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

May 13, 2026

فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

May 13, 2026

بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

May 13, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے دور رس اثرات؛ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے
آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان

March 28, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں سال آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو مؤثر فوجی کاروائیوں کے بعد اب محض 80 تک رہ گئے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال کے نویں ہفتے میں دہشت گردی کے ریکارڈ 48 واقعات درج ہوئے تھے، جو آپریشن کے بارہویں ہفتے تک کم ہو کر صرف 12 رہ گئے ہیں۔

سرحد پار پناہ گاہوں کا خاتمہ

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا اس کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں حملوں کے ماسٹر مائنڈز سمیت کئی خطرناک دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشیں

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا سہرا پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کوآرڈینیشن کے سر باندھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

اس راہداری کے قیام سے نہ صرف دوطرفہ تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے لاتعداد نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومت پاکستان اس وقت تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے کلیدی شعبوں میں چین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

May 13, 2026

مندانا کریمی نے بھارت سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتقال کے بعد بھارت میں لوگ سڑکوں پر نکل کر ماتم کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں۔

May 13, 2026

سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرنا قانونی منطق سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فیصل سلیم کر رہے ہیں، کی جانب سے ایک ایسے ادارے کو جوابدہی کے لیے بلانا جو کیس کا مدعی ہے نہ تفتیشی، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

May 13, 2026

انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

May 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *