...
آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

March 28, 2026

بنوں کے علاقے ممہ خیل میں دہشت گردوں کا پولیس وین پر حملہ، فائرنگ سے اے ایس آئی شہید؛ حملہ آوروں نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی، وزیراعلیٰ کا نوٹس

March 28, 2026

وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

March 28, 2026

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد آمد؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر چار ملکی مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

March 28, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز کی قسط ملے گی

March 28, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے گفتگو، مغربی ایشیا کی صورتحال اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے سفارتی عزم کا اعادہ

March 28, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے دور رس اثرات؛ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے
آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان

March 28, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں سال آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو مؤثر فوجی کاروائیوں کے بعد اب محض 80 تک رہ گئے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال کے نویں ہفتے میں دہشت گردی کے ریکارڈ 48 واقعات درج ہوئے تھے، جو آپریشن کے بارہویں ہفتے تک کم ہو کر صرف 12 رہ گئے ہیں۔

سرحد پار پناہ گاہوں کا خاتمہ

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا اس کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں حملوں کے ماسٹر مائنڈز سمیت کئی خطرناک دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشیں

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا سہرا پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کوآرڈینیشن کے سر باندھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

بنوں کے علاقے ممہ خیل میں دہشت گردوں کا پولیس وین پر حملہ، فائرنگ سے اے ایس آئی شہید؛ حملہ آوروں نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی، وزیراعلیٰ کا نوٹس

March 28, 2026

وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

March 28, 2026

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد آمد؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر چار ملکی مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

March 28, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز کی قسط ملے گی

March 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.