مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری اور سخت ترین پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام نے حریت رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی رفقاء کی فوری رہائی کے لیے احتجاجی دھرنا دیا۔ دوسری جانب لاہور میں بھی آسیہ اندرابی کو سنائی گئی تین مرتبہ عمر قید کی ظالمانہ سزا کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا، جہاں مقررین نے اسے عالمی ضمیر پر تازیانہ قرار دیا۔
سرینگر میں احتجاج
مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کی مسلسل موجودگی اور نقل و حرکت پر عائد رکاوٹوں کے باوجود مظاہرین نے رات گئے خاموشی سے جمع ہو کر سیاسی جبر کے خلاف ایک مضبوط پیغام دیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی گئی تھی۔ دھرنے کے شرکاء نے مکمل خاموشی اختیار کر کے کالے قوانین کے تحت کشمیری قیادت کی مسلسل نظربندی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔
انسانیت پر طمانچہ
لاہور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں آسیہ اندرابی کو حقِ خود ارادیت کی پاداش میں تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنانے کی شدید مذمت کی گئی۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک 65 سالہ معمر خاتون کو صرف آزادی کا مطالبہ کرنے پر ایسی سنگین سزا سنانا انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیری خواتین پر ہونے والے اس کھلے ظلم پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں؟
علاقائی صورتحال
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جبری نظربندیاں اور شہری آزادیوں پر قدغنیں مقامی آبادی کو مزید الگ تھلگ کر رہی ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ خواتین رہنماؤں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے جو برسوں سے منصفانہ ٹرائل کے بغیر جیلوں میں بند ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور بھارت ظلم و جبر سے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا میں موسلا دھار بارشیں: چھتیں گرنے سے 8 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق