رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

July 18, 2026

انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔

July 18, 2026

اقوامِ متحدہ کے عہدیدار الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور طالبان سے روابط اب بھی برقرار ہیں۔ داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان بھی افغانستان سے سرگرم اہم دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہیں۔

July 18, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔ ایران نے امریکی حملوں سے جاں بحق شہریوں کی تصاویر بھی جاری کر دیں۔

July 18, 2026

سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا میں بارودی مواد سے بھری گاڑی خودکش حملے سے پہلے ہی تباہ کر دی۔ تین دن کی مسلسل نگرانی کے بعد کی گئی اس کارروائی میں ایک خارجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

July 18, 2026

بھارتی خلائی ادارے اسرو سے 120 سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے ریٹائرمنٹ کے قواعد سخت کر دیے۔ نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارہ چھوڑنے لگے۔

July 18, 2026

عالمی امن اور مسلم ریاستیں: مغربی بیانیے کے تضادات اور تاریخی حقائق

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔
امریکی قانون ساز کے بیان کے تناظر میں مسلم ریاستوں کی قیامِ امن کی جدوجہد، مغربی بیانیے کے تضادات اور یہودیت کی تاریخی و عصری شرپسندی کا ایک جامع تجزیہ

یہ اداریہ عالمی امن کے قیام میں مسلم ریاستوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتا ہے اور یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے فتنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے مغربی پرپیگنڈے کی حقیقت واضح کرتا ہے

March 31, 2026

امریکی قانون ساز کے حالیہ اشتعال انگیز بیان نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں واقعی خطوں میں استحکام کی خواہاں ہیں یا اب بھی وہی پرانی معاندانہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ موصوف کی جانب سے مسلم حکومتوں کی قانونی حیثیت کو نشانہ بناتے ہوئے عوام کو اکساوا دینا نہ صرف سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی ہے۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ دنیا اب بھی بعض خود مختار ریاستوں کو ایک آزاد ملک کے بجائے محض ایک ‘تجربہ گاہ’ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں اپنی سیاسی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی بھی وقت انتشار کا بیج بویا جا سکتا ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ بیانات اکثر مذہب اور سیاست کو ایک ہی متعصب اور تنگ نظر زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے نہ صرف زمینی حقائق مسخ ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایسی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا ازالہ برسوں ممکن نہیں ہوتا۔ کسی بھی مذہب یا قدیم تہذیب کو ایک مخصوص اور منفی بیانیے میں قید کرنا سفارتی نزاکتوں کے قطعی منافی ہے، کیونکہ جب بااثر عہدیدار ایسی زبان استعمال کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر مکالمے کے دروازے بند ہونے اور تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

تاریخ کے اوراق کا غیر جانبدارانہ مطالعہ شاہد ہے کہ مسلم ریاستوں نے ہمیشہ اور ہر دور میں امن و آشتی کے علم کو بلند رکھا ہے۔ مسلم امہ کی تاریخ عدل و انصاف، رواداری اور انسانی جان کی حرمت سے عبارت ہے۔ چاہے وہ دورِ اول کی فتوحات ہوں یا عہدِ حاضر کی سفارت کاری، مسلم ریاستوں نے ہمیشہ خونریزی کو روکنے اور انسانیت کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ اس کے برعکس اگر انسانیت کو درپیش فتنوں اور عالمی بدامنی کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی جڑیں ہمیشہ اس مخصوص ذہنیت میں پیوست نظر آتی ہیں جسے ‘ذریتِ یہود’ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔ ان کا بنیادی وطیرہ ہی ‘جنگ برائے جنگ’ اور ‘فساد برائے فساد’ رہا ہے، جہاں انسانی جانوں کا زیاں ان کے لیے محض ایک سیاسی شطرنج کی چال سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

آج کی جیو پولیٹیکل صورتحال، بالخصوص حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں بھی یہی نقشہ واضح ہے۔ ایک طرف مسلم ریاستیں ہیں جو اپنی تمام تر جغرافیائی اور سیاسی حدود کے باوجود سرفہرست رہ کر جنگ بندی، معصوموں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ پاکستان سمیت ترکیہ اور مصر جیسے ممالک نے ثابت کیا ہے کہ اسلام کا اصل پیغام امن کی بحالی ہے، نہ کہ تخریب کاری۔ دوسری طرف وہی مخصوص یہودی لابی ہے جو جدید اسلحہ اور پراپیگنڈا مشینری کے ذریعے پوری دنیا کو آگ اور خون کے کھیل میں دھکیل رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ عناصر جو خود بدامنی کے سب سے بڑے بیوپاری ہیں اور جن کی بقا ہی جنگ و جدل میں پوشیدہ ہے، بڑی عیاری سے امن کے داعی مسلمانوں کو ‘دہشت گرد’ اور ‘غیر قانونی’ قرار دینے کا طعنہ دیتے ہیں۔

یہ ایک سوچی سمجھی عالمی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے یہودی شرپسندی کے سیاہ چہرے کو چھپایا جاتا ہے اور ان قوتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے جو درحقیقت اس فتنے کا نشانہ بن رہی ہیں۔ مغربی ایوانوں سے اٹھنے والی آوازیں دراصل اس سچائی سے فرار کی کوشش ہے کہ مسلم دنیا خود ان مخصوص یہودی سازشوں اور بیرونی مداخلت کا سب سے بڑا ہدف رہی ہے۔ لہٰذا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسلم ریاستوں کی مخلصانہ کوششوں کی قدر کرے اور ان فتنہ پرور عناصر کی حقیقت کو پہچانے جو انسانیت کو دائمی فساد کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔

دیکھیے: امتِ مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا؛ اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

July 18, 2026

انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔

July 18, 2026

اقوامِ متحدہ کے عہدیدار الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور طالبان سے روابط اب بھی برقرار ہیں۔ داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان بھی افغانستان سے سرگرم اہم دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہیں۔

July 18, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔ ایران نے امریکی حملوں سے جاں بحق شہریوں کی تصاویر بھی جاری کر دیں۔

July 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *