"> بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کی افغانستان میں گورنر ہرات سے ملاقات، بی ایل اے کے افغانستان میں ٹھکانے سامنے آگئے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کی افغانستان میں گورنر ہرات سے ملاقات، بی ایل اے کے افغانستان میں ٹھکانے سامنے آگئے

معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغان صوبے ہرات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں افغان گورنر سے اہم ملاقات کی
معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغان صوبے ہرات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں افغان گورنر سے اہم ملاقات کی

کالعدم تنظیم بی ایل اے اور افغان حکام کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آ گئے۔ بی ایل اے چیف بشیر زیب کی گورنر ہرات مولوی نور محمد اسلام جار سے ملاقات کی تصدیق، خطے کی سلامتی پر سوالات اٹھ گئے

April 9, 2026

معتبر ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغانستان کے صوبے ہرات کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران بی ایل اے سربراہ کی گورنر ہاؤس میں ہرات کے گورنر مولوی نور محمد اسلام جار سے باضابطہ ملاقات بھی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کالعدم تنظیم اور افغان حکام کے درمیان قریبی روابط اور گٹھ جوڑ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ گورنر ہاؤس جیسے حساس مقام پر کالعدم تنظیم کے سربراہ کی آمد اور اعلیٰ افغان عہدیدار سے ملاقات خطے میں دہشت گرد عناصر کو حاصل مبینہ سرپرستی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

سکیورٹی ماہرین اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک طرف افغان حکام اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے کرتے ہیں، تو دوسری جانب پاکستان کو مطلوب دہشت گرد گروہوں کے سربراہان کی گورنر ہاؤسز میں آمد و رفت ان دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔

اس ملاقات کے بعد یہ خدشات مزید تقویت پکڑ گئے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور سیاسی سرپرستی فراہم کی جا رہی ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ تاحال اس ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں، تاہم سفارتی وسکیورٹی حلقوں میں اسے ایک سنگین پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: افغان رہنما حاجی محمد محقق نے ایران۔امریکا کشیدگی کم کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *