معتبر ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغانستان کے صوبے ہرات کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران بی ایل اے سربراہ کی گورنر ہاؤس میں ہرات کے گورنر مولوی نور محمد اسلام جار سے باضابطہ ملاقات بھی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کالعدم تنظیم اور افغان حکام کے درمیان قریبی روابط اور گٹھ جوڑ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ گورنر ہاؤس جیسے حساس مقام پر کالعدم تنظیم کے سربراہ کی آمد اور اعلیٰ افغان عہدیدار سے ملاقات خطے میں دہشت گرد عناصر کو حاصل مبینہ سرپرستی کی جانب واضح اشارہ ہے۔
سکیورٹی ماہرین اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک طرف افغان حکام اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے کرتے ہیں، تو دوسری جانب پاکستان کو مطلوب دہشت گرد گروہوں کے سربراہان کی گورنر ہاؤسز میں آمد و رفت ان دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
اس ملاقات کے بعد یہ خدشات مزید تقویت پکڑ گئے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور سیاسی سرپرستی فراہم کی جا رہی ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ تاحال اس ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں، تاہم سفارتی وسکیورٹی حلقوں میں اسے ایک سنگین پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔