ہارورڈ یونیورسٹی، میساچوسٹس کے تاریخی ڈیوڈ روبنسٹین ٹری ہاؤس میں “ہارورڈ پاکستان کانفرنس 2026” کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے پاکستان کے مستقبل، معاشی اصلاحات اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
“صلاحیت سے کارکردگی تک” کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں 700 سے زائد شرکاء، 55 ممتاز مقررین اور 17 مختلف پینلز نے شرکت کی۔ شرکاء میں پاکستانی ڈائسپورا، بین الاقوامی طلبہ، ہارورڈ کی فیکلٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے پاکستان کو چیلنجز کے باوجود ایک انتہائی لچکدار اور باصلاحیت قوم قرار دیا۔
اقتصادی اصلاحات اور معاشی استحکام
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب بحران سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان نے اپنی بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کیں۔ گوادر بندرگاہ کی مکمل فعالیت اور مارچ 2026 میں ترسیلاتِ زر کے ریکارڈ اضافے کو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا ثمر قرار دیا گیا۔ اگرچہ پروفیسر عاطف میاں اور پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے طویل مدتی پالیسی فریم ورک اور ادارہ جاتی مضبوطی پر زور دیا، تاہم مجموعی اتفاقِ رائے یہی تھا کہ اقتصادی اصلاحات نے معیشت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔
خارجہ پالیسی اور پاکستان کا ثالثی کردار
خارجہ پالیسی کے سیشن میں شرکاء نے پاکستان کی آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی کی ستائش کی۔ امریکی سینیٹر کرس وین ہولن اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ-ایران تنازع میں پاکستان کے “ثالثی کردار” کو عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے خطے میں بھارت کے “بالادستی پر مبنی رویے” کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قومی سلامتی اور طاقت کا توازن
پاکستان کے اندرونی نظام اور طاقت کے توازن پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی اور اسٹریٹجک حالات اسٹیبلشمنٹ کے فعال کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار کو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت قرار دیا۔
رواداری اور سماجی ہم آہنگی
کانفرنس کے ایک اہم سیشن میں پاکستان میں فرقہ واریت کے تاثر کو مسترد کیا گیا۔ پروفیسر حسن عباس اور دیگر ماہرین نے واضح کیا کہ ریاستی سطح پر پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب موجود نہیں۔ سندھ کی معیشت میں ہندو برادری کے کلیدی کردار اور ملک میں موجود تاریخی گرجا گھروں کو پاکستان کے کثیر الثقافتی اور روادار معاشرے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
عزم، حوصلہ اور ثقافتی گہرائی
پاکستان کی جرات اور حوصلے کی مثال پیش کرنے کے لیے شہباز تاثیر اور ظفر مسعود نے اپنی زندگی کے غیر معمولی تجربات بیان کیے، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔ ثقافتی سیشن میں ماہرہ خان، مومینہ مستحسن، فیصل کپاڈیا اور ایچ ایس وائی جیسے نامور فنکاروں نے پاکستان کے آرٹ، فیشن اور متنوع ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے پاکستانی صحافیوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔