اسلام آباد: بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو ماہرین نے پاکستان کی جامع قومی سلامتی کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے، جس کے اثرات پانی کی دستیابی سے آگے بڑھ کر معیشت، زراعت، توانائی اور عوامی صحت تک پھیل رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دہائیوں سے خطے میں آبی نظم و نسق اور تعاون کی بنیاد رہا ہے، جس نے بالائی اور زیریں کنارے والے ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم اور تنازعات کے حل کو یقینی بنایا۔ تاہم اس معاہدے کی معطلی نے اس توازن کو متاثر کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور مشترکہ وسائل کے نظم کے اصولوں کو چیلنج کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال پاکستان کی زرعی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بن رہی ہے، جہاں آبپاشی کے درست وقت اور تسلسل پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غذائی تحفظ، دیہی معیشت اور قومی پیداوار پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبی ماہرین کے مطابق پانی کی دستیابی میں اتار چڑھاؤ سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ سیلاب کی پیشگوئی، خشک سالی سے نمٹنے اور پانی کے مؤثر استعمال کی منصوبہ بندی بھی مشکل ہو جائے گی، جس سے مجموعی آبی نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
معاشی و توانائی حلقوں کے مطابق پن بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیاں بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ پانی کے بہاؤ میں تسلسل توانائی کے نظام کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، مارکیٹ کے اعتماد اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
انسانی سطح پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی قلت اور غیر یقینی دستیابی صحت عامہ، غذائیت اور صاف پانی تک رسائی جیسے بنیادی مسائل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر دیہی آبادی پر زیادہ پڑیں گے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق معاہدے کی معطلی سے خطے میں اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچا ہے اور پانی جیسے مشترکہ وسیلے کو اسٹریٹجک دباؤ کے آلے میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال میں قواعد پر مبنی عالمی نظام اور پرامن تنازعات کے حل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ سفارتی اور قانونی فورمز پر اپنی مؤثر آواز بلند کرے، جبکہ اندرونی سطح پر آبی نظم و نسق اور پالیسی سازی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اس نئے چیلنج کا مقابلہ کرے۔