اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات کے کیس میں عدم حاضری پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں کی۔
سول جج عباس شاہ کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور حاضری یقینی بنانے کیلئے سخت اقدام اٹھایا۔ عدالت نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے آئندہ پیشی پر عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق یہ کیس ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ الزامات سے متعلق ہے، جس پر پیکا ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیس میں سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر دیے گئے بیانات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پر پیشی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امکان ہے کہ اس دوران مزید قانونی پیش رفت بھی سامنے آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ سیاسی اور قانونی دونوں حوالوں سے اہم ہے، جہاں ایک حاضر سروس صوبائی سربراہ کے خلاف عدالتی کارروائی ملکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ عدالت کا اقدام قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔