سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، گل بہادر گروپ، جماعت الاحرار اور لشکرِ اسلام جیسی خطرناک تنظیموں کے خلاف جاری کاروائیوں کی مفصل رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دوران صوبے بھر میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سالوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار 403 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ ان کاروائیوں کے دوران 1557 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 4487 کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ قانون کی گرفت میں آنے والے 287 دہشت گردوں کو عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر سخت سزائیں سنائیں۔
رواں سال کی کارکردگی
سال 2026 کے دوران سی ٹی ڈی کی کاروائیوں میں مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔ رواں سال اب تک 818 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 243 دہشت گرد ہلاک اور 84 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کاروائیوں کے دوران متعدد دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں بھی دلوائی گئی ہیں، جو صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔
کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کاروائیاں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے مالی معاونت کے نظام کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق گل بہادر گروپ اور جماعت الاحرار سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔