حالیہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان کے سرحدی علاقوں میں تقریباً دو ماہ سے بند رہنے والے راستے اور سڑکیں “پاکستانی فورسز کی معاونت” سے دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ برگ متال اور کامدیش اضلاع میں طویل عرصے سے سڑکوں کی بندش کے باعث مقامی آبادی کو شدید انسانی و معاشی بحران کا سامنا تھا، جس پر مقامی قبائلی عمائدین نے مداخلت کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مدد طلب کی۔ اس ہم آہنگی کے نتیجے میں اب ان علاقوں میں آمد و رفت کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے، جسے مقامی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کابل حکومت کو نظر انداز
اس پیش رفت کا سب سے نمایاں پہلو وہ سفارتی و سکیورٹی خلا ہے جو افغانستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ کنڑ اور نورستان کے قبائلی عمائدین نے چترال میں پاکستانی حکام سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے تناظر میں سکیورٹی کی فراہمی کے لیے مدد کی درخواست کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ یہ تمام تر معاہدے اور مذاکرات افغان طالبان کی شمولیت کے بغیر طے پائے، جو کابل کی حکمرانی اور موجودہ سکیورٹی انتظامات پر مقامی آبادی کے شدید عدم اطمینان اور بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔



تصاویر میں کنڑ اور نورستان کے قبائلی وفد کو پاکستانی حکام کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات طے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ٹی ٹی پی کی روک تھام اور تجارتی راستوں کی دوبارہ کشادگی ہے
ٹی ٹی پی کے خلاف شرائط
ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی حکام اور افغان قبائلی عمائدین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے اہم نکتہ طے پایا ہے۔ پاکستانی فورسز نے قبائلی عمائدین کو دوٹوک ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو کسی صورت داخل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی انہیں کوئی پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔ اس شرط کی پاسداری کے عوض پاکستان نے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی بہتری اور دو ماہ سے بند راستوں کی بحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ابھرتی ہوئی مزاحم
ماہرین اس صورتحال کو افغانستان میں طالبان کی عملداری کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ مشرقی افغانستان میں افغان طالبان کو ایک طرف نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی مزاحمت کا سامنا ہے تو دوسری جانب مقامی احتجاجی تحریکیں طرزِ حکمرانی میں بہتری کے مطالبات کر رہی ہیں۔ قبائلی عمائدین کا پاکستانی حکام سے براہِ راست رابطہ کرنا اور سرحد پار انحصار میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کا بڑا خلا موجود ہے جسے پُر کرنے میں طالبان حکومت ناکام رہی ہے۔ اگرچہ بعض مقامی رہنماؤں نے چترال معاہدے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، تاہم زمینی حقائق کابل کی کمزور ہوتی گرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔