"> مشرقی افغانستان میں طالبان نظرانداز، کنڑ و نورستان کے قبائلی عمائدین کا پاکستان سے سکیورٹی کنٹرول کا مطالبہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مشرقی افغانستان میں طالبان نظرانداز، کنڑ و نورستان کے قبائلی عمائدین کا پاکستان سے سکیورٹی کنٹرول کا مطالبہ

مشرقی افغانستان: قبائلی عمائدین کا کابل حکومت کو بائی پاس کر کے پاکستان سے براہِ راست رابطہ، دو ماہ سے بند اہم راستے بحال۔
مشرقی افغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان کے قبائلی عمائدین نے کابل حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے براہِ راست رابطہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دو ماہ سے بند اہم تجارتی و سفری راستے بحال کر دیے گئے ہیں

افغانستان کے سرحدی اضلاع میں سکیورٹی خلا اور حکومتی کمزوری؛ قبائلی عمائدین کا افغان طالبان کی شمولیت کے بغیر پاکستان سے معاہدہ۔ ٹی ٹی پی کی روک تھام کی شرط پر برگ متال اور کامدیش کی سڑکیں کھول دی گئیں

April 15, 2026

حالیہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان کے سرحدی علاقوں میں تقریباً دو ماہ سے بند رہنے والے راستے اور سڑکیں “پاکستانی فورسز کی معاونت” سے دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ برگ متال اور کامدیش اضلاع میں طویل عرصے سے سڑکوں کی بندش کے باعث مقامی آبادی کو شدید انسانی و معاشی بحران کا سامنا تھا، جس پر مقامی قبائلی عمائدین نے مداخلت کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے مدد طلب کی۔ اس ہم آہنگی کے نتیجے میں اب ان علاقوں میں آمد و رفت کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے، جسے مقامی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کابل حکومت کو نظر انداز

اس پیش رفت کا سب سے نمایاں پہلو وہ سفارتی و سکیورٹی خلا ہے جو افغانستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ کنڑ اور نورستان کے قبائلی عمائدین نے چترال میں پاکستانی حکام سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے تناظر میں سکیورٹی کی فراہمی کے لیے مدد کی درخواست کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ یہ تمام تر معاہدے اور مذاکرات افغان طالبان کی شمولیت کے بغیر طے پائے، جو کابل کی حکمرانی اور موجودہ سکیورٹی انتظامات پر مقامی آبادی کے شدید عدم اطمینان اور بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

تصاویر میں کنڑ اور نورستان کے قبائلی وفد کو پاکستانی حکام کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات طے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ٹی ٹی پی کی روک تھام اور تجارتی راستوں کی دوبارہ کشادگی ہے

ٹی ٹی پی کے خلاف شرائط

ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی حکام اور افغان قبائلی عمائدین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے اہم نکتہ طے پایا ہے۔ پاکستانی فورسز نے قبائلی عمائدین کو دوٹوک ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو کسی صورت داخل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی انہیں کوئی پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔ اس شرط کی پاسداری کے عوض پاکستان نے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی بہتری اور دو ماہ سے بند راستوں کی بحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ابھرتی ہوئی مزاحم

ماہرین اس صورتحال کو افغانستان میں طالبان کی عملداری کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ مشرقی افغانستان میں افغان طالبان کو ایک طرف نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی مزاحمت کا سامنا ہے تو دوسری جانب مقامی احتجاجی تحریکیں طرزِ حکمرانی میں بہتری کے مطالبات کر رہی ہیں۔ قبائلی عمائدین کا پاکستانی حکام سے براہِ راست رابطہ کرنا اور سرحد پار انحصار میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کا بڑا خلا موجود ہے جسے پُر کرنے میں طالبان حکومت ناکام رہی ہے۔ اگرچہ بعض مقامی رہنماؤں نے چترال معاہدے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، تاہم زمینی حقائق کابل کی کمزور ہوتی گرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *