واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی عوام، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “عظیم لوگ” قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسے ایک کامیاب سفارتی کوشش قرار دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر بنانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں مثبت سمت میں جا رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ سفارتی عمل کامیاب ہو سکتا ہے۔
President Trump pays huge Compliments people of Pakistan, Prime Minister and Field Marshal in his @FoxNews interview by saying they are great people. They are close to Iran and trying to work something out and he thinks they are being very successful. @CMShehbaz @POTUS… pic.twitter.com/dJpQV9cMl4
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) April 16, 2026
امریکی صدر نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، تاہم ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا۔
ٹرمپ کے مطابق تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایران اب معاہدے کے لیے آمادہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مزید وقت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسٹ نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدے کی طرف آتا ہے تو یہ عالمی استحکام کے لیے بہتر ہوگا، بصورت دیگر سخت معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا کی معاشی حکمت عملی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے، جس میں ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ دیگر تنازعات، خصوصاً مسلح گروہوں کی مالی معاونت جیسے معاملات بھی شامل ہوں۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ دنوں میں پاکستان میں متوقع ہے، اور اس حوالے سے انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔
واضح رہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ پیشرفت کے بعد اسے ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔