ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ بھی اس گزرگاہ سے کامیابی کے ساتھ نکل کر کراچی کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 10.58 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد قیمت 93.61 ڈالر سے کم ہو کر 84.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح برطانوی خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً 10 فیصد کمی ہوئی اور یہ 98.33 ڈالر سے کم ہو کر 88.87 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں فوری کمی دیکھنے میں آئی۔ واضح رہے کہ یہ گزرگاہ عالمی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزارتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا بحالی براہ راست قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے اور جنگ بندی کے باقی عرصے میں یہ مکمل طور پر کھلی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جہازوں کے لیے مخصوص راستے پہلے ہی طے کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا ہے۔
ادھر رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی اور امریکی پابندیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی تھی، تاہم جنگ بندی اور سفارتی پیشرفت کے بعد صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔