برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کے سفارتی کردار کا واضح اور دوٹوک اعتراف اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو نہ صرف سراہا گیا ہے بلکہ اسے عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی ایک عظیم تزویراتی کامیابی ہے کہ اس نے برسوں کی دشمنی کے بعد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیابی حاصل کی۔
قیادت کی شب و روز محنت کا ثمر
اس تاریخی کامیابی کے پیچھے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شب و روز محنت، دور اندیش حکمت عملی اور پالیسیوں کا تسلسل کارفرما ہے۔ آج دنیا اس حقیقت کی معترف ہے کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے مل کر ایک ایسی سفارتی راہ نکالی جس نے عالمی سطح پر ایک بڑی تباہی کو ٹال دیا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے ایوان میں کھلے الفاظ میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ ان مذاکرات کی میزبانی کی اور دنیا کو ایک ممکنہ بحران سے بچایا۔
برطانوی وزیراعظم کا اظہارِ تشکر اور تعاون کا یقین
برطانوی وزیراعظم نے بھی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کے اس مؤثر کردار کی تعریف کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست رابطہ کر کے ان مذاکرات کے مثبت نتائج کے حصول کے لیے برطانیہ کے مکمل تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ برطانوی قیادت کا یہ موقف کہ “پوری دنیا پاکستان کی ان کوششوں کی مقروض ہے”، پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور اس کے ‘ذمہ دار ریاست’ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
عالمی تائید اور قومی فخر
دنیا کے کونے کونے سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اب ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی قیادت وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، وہیں یہ کامیابیاں ان عناصر کے لیے منہ توڑ جواب ہیں جو پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کمزور دکھانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں۔
امن کی جیت اور مستحکم مستقبل
پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط قیادت اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے ہی امن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آج پاکستان کی یہ کامیابی صرف ایک ملک کی جیت نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کی جیت ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنی قیادت کی اس عالمی کامیابی پر بجا طور پر فخر ہونا چاہیے، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان امن کا علمبردار اور عالمی سلامتی کا ایک مضبوط ستون ہے۔