ایرانی جہاز کی تحویل پر تہران کا سخت ردعمل، امریکی اقدام ’بحری قزاقی‘ قرار، جوابی کاروائی کی دھمکی

April 20, 2026

ایران کی جانب سے آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کرنے والے وفد یا اس کی قیادت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

April 19, 2026

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب افغان کرکٹر شاپور زدران کو بھارتی ویزا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد دیگر متاثرہ افراد نے بھی اپنی مشکلات بیان کرنا شروع کر دیں۔ بعض درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وہ اہم طبی علاج، تعلیمی مواقع اور کھیلوں کے ایونٹس کے لیے سفر کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔

April 19, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی حتمی معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو پہلے امریکا واپس بلایا جا سکتا ہے۔

April 19, 2026

وائٹ ہاؤس نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اب جے ڈی وینس نہ صرف اسلام آباد جائیں گے بلکہ وہی امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق “صورتحال بدل گئی ہے”، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔

April 19, 2026

اداکارہ کے مطابق ریہرسل کے دوران انہیں ایک مخصوص لباس پہننے کا کہا گیا جو گلیمرس انداز کا تھا، تاہم انہوں نے پہلی شرط رکھتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے کلچر کے مطابق شلوار قمیض اور دوپٹہ ہی پہنیں گی۔ ریما نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ثقافت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

April 19, 2026

ٹرمپ پر عالمی تنقید میں اضافہ: روز جنگی دھمکیوں والے ٹوئٹس برداشت نہیں کر سکتے، برازیل اور بیلاروس کے صدور کے سخت بیانات

اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسے بڑے ملک سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تاثر پیش کرتا رہا ہے۔
برازیل اور بیلا روس کی امریکا پر تنقید

ہم ہر صبح اور رات کسی ایسے صدر کے ٹوئٹس پڑھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جو دنیا کو دھمکیاں دے رہا ہو اور جنگ کے اعلانات کر رہا ہو

April 19, 2026

بارسلونا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں اور بیانات پر عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے، برازیل اور بیلاروس کے صدور نے کھل کر امریکا کے طرزِ عمل اور بیانیے کو نشانہ بنایا ہے۔

اسپین کے شہر بارسلونا میں ترقی پسند رہنماؤں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا روزانہ ایسے بیانات برداشت نہیں کر سکتی جن میں جنگ کی دھمکیاں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ہر صبح اور رات کسی ایسے صدر کے ٹوئٹس پڑھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جو دنیا کو دھمکیاں دے رہا ہو اور جنگ کے اعلانات کر رہا ہو”۔

برازیلین صدر نے ایران جنگ کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جنگ روکنے میں ناکامی کے بعد انہیں اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

دوسری جانب بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسے بڑے ملک سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تاثر پیش کرتا رہا ہے۔

لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ امریکا کے بنیادی مفادات توانائی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کرتا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عالمی سطح پر بعض اقدامات ان دعوؤں سے متصادم ہیں۔

بیلاروس کے صدر نے امریکا پر لگنے والے “آمریت” کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل آمریت ان پالیسیوں میں نظر آتی ہے جو مختلف خطوں میں اختیار کی جاتی ہیں، جبکہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار قرار دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور امریکا کی خارجہ پالیسی پر بڑھتے سوالات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مختلف ممالک اپنے اپنے زاویے سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سفارتی ماحول میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے، جس پر مختلف عالمی رہنما کھل کر ردعمل دے رہے ہیں۔

دیکھئیے:ایشیا ٹائمز کی رپورٹ: پاکستان سے بڑھتے تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر اعتماد مشکل قرار

متعلقہ مضامین

ایرانی جہاز کی تحویل پر تہران کا سخت ردعمل، امریکی اقدام ’بحری قزاقی‘ قرار، جوابی کاروائی کی دھمکی

April 20, 2026

ایران کی جانب سے آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کرنے والے وفد یا اس کی قیادت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

April 19, 2026

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب افغان کرکٹر شاپور زدران کو بھارتی ویزا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد دیگر متاثرہ افراد نے بھی اپنی مشکلات بیان کرنا شروع کر دیں۔ بعض درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وہ اہم طبی علاج، تعلیمی مواقع اور کھیلوں کے ایونٹس کے لیے سفر کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔

April 19, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی حتمی معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو پہلے امریکا واپس بلایا جا سکتا ہے۔

April 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *