کابل: افغان شہریوں کو بھارت کے لیے ویزا حاصل کرنے میں بڑھتی مشکلات نے ایک بار پھر سفری پابندیوں اور علاقائی تعلقات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں کے مطابق متعدد افغان کرکٹرز، طلبہ، مریض اور شائقین کو ویزا درخواستوں میں تاخیر یا مسترد کیے جانے کا سامنا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب افغان کرکٹر شاپور زدران کو بھارتی ویزا حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد دیگر متاثرہ افراد نے بھی اپنی مشکلات بیان کرنا شروع کر دیں۔ بعض درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وہ اہم طبی علاج، تعلیمی مواقع اور کھیلوں کے ایونٹس کے لیے سفر کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں بھارتی سفارت خانے کی بندش اور آن لائن ویزا نظام تک محدود رسائی نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث درخواست گزاروں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بھارتی شہری نسبتاً آسانی سے افغانستان کا سفر کر رہے ہیں، مگر افغانی شہریوں کو اجازت نہ ملنا نہایت افسوسناک ہے۔
اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان ویزا پالیسیوں پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات ان پابندیوں کی بڑی وجہ ہیں، جبکہ دیگر اسے انتظامی اور سفارتی مسائل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ویزا نظام اکثر سفارتی تعلقات، سکیورٹی پالیسیوں اور ادارہ جاتی صلاحیت سے متاثر ہوتا ہے، جس کے باعث مختلف طبقات کے لیے سفری سہولیات میں فرق آ سکتا ہے۔
متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ویزا کے عمل کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جائے، خاص طور پر طلبہ، مریضوں اور کھلاڑیوں کے لیے، تاکہ ضروری سفر میں رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔
دیکھئیے:افغان شہری کا عاصم منیر کے نام پیغام اور مدد کی اپیل: طالبان کی کارکردگی سے ناخوش، ویڈیو وائرل