واشنگٹن: امریکی سکیورٹی ادارے سیکرٹ سروس کے حوالے سے اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو بیک وقت ایک ہی مقام پر موجود ہونے کی اجازت دینے سے گریز کرتے ہیں، اور یہ پالیسی نہ صرف بیرون ملک دوروں بلکہ اندرونِ ملک بھی لاگو ہوتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سکیورٹی اصول خاص طور پر اس وقت زیر بحث آیا جب اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے تناظر میں صدر ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان کی بات سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی حتمی معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو پہلے امریکا واپس بلایا جا سکتا ہے۔
One thing to note here: Secret Service does not want Vance & POTUS in the same place at the same time (not just due to the region & the security risks that poses, but in general/domestically too)
— Alayna Treene (@alaynatreene) April 19, 2026
If POTUS were to try & travel to Pakistan should a final deal materialize, it’s… https://t.co/o07fLvBDTR
سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ایک معمول کی حکمت عملی ہے جس کا مقصد قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوتا ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں حکومت کا نظام متاثر نہ ہو۔ اسی لیے صدر اور نائب صدر کو ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے خطوں میں جہاں سکیورٹی خدشات زیادہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں امریکا ایران مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، اس طرح کے سکیورٹی فیصلے سفارتی سرگرمیوں کے شیڈول پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اور اعلیٰ سطحی دوروں کے حوالے سے یہی پہلو امریکی پالیسی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد آئیں گے، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پایا تو وہ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ تاہم سیکرٹ سروس کی سکیورٹی پالیسی اس ممکنہ دورے کے طریقہ کار کو متاثر کر سکتی ہے۔