بارسلونا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں اور بیانات پر عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے، برازیل اور بیلاروس کے صدور نے کھل کر امریکا کے طرزِ عمل اور بیانیے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسپین کے شہر بارسلونا میں ترقی پسند رہنماؤں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا روزانہ ایسے بیانات برداشت نہیں کر سکتی جن میں جنگ کی دھمکیاں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ہر صبح اور رات کسی ایسے صدر کے ٹوئٹس پڑھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جو دنیا کو دھمکیاں دے رہا ہو اور جنگ کے اعلانات کر رہا ہو”۔
برازیلین صدر نے ایران جنگ کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جنگ روکنے میں ناکامی کے بعد انہیں اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔
دوسری جانب بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسے بڑے ملک سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تاثر پیش کرتا رہا ہے۔
لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ امریکا کے بنیادی مفادات توانائی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کرتا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عالمی سطح پر بعض اقدامات ان دعوؤں سے متصادم ہیں۔
بیلاروس کے صدر نے امریکا پر لگنے والے “آمریت” کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل آمریت ان پالیسیوں میں نظر آتی ہے جو مختلف خطوں میں اختیار کی جاتی ہیں، جبکہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور امریکا کی خارجہ پالیسی پر بڑھتے سوالات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مختلف ممالک اپنے اپنے زاویے سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سفارتی ماحول میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے، جس پر مختلف عالمی رہنما کھل کر ردعمل دے رہے ہیں۔
دیکھئیے:ایشیا ٹائمز کی رپورٹ: پاکستان سے بڑھتے تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر اعتماد مشکل قرار