صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔

April 20, 2026

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

April 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

April 20, 2026

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور دونوں ممالک کے ساتھ اس کے روابط کو سفارتی عمل میں ایک اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔

April 20, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ مکمل طور پر گمنام ذرائع پر مبنی ہے، جس میں کسی بھی سرکاری مؤقف یا دستاویزی ثبوت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معاہدے کی منسوخی کو بطور حقیقت پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔

April 20, 2026

رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔

April 20, 2026

امریکی وفد چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائے گا، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملاقات کروں گا: ٹرمپ

ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔
امریکی وفد کچھ گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائے گا

صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد پہلے ہی پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔

April 20, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی امریکی وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا ہے، اور آئندہ چند گھنٹوں میں ان کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد پہلے ہی پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا اور مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔

ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت یا بریک تھرو سامنے آتا ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں، جسے مبصرین ایک اہم سفارتی پیشکش قرار دے رہے ہیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے اس نئے دور کی ٹائمنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے دباؤ میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایک بار پھر ان اہم مذاکرات کا مرکز بن چکا ہے، جہاں پاکستان ثالثی کے کردار میں دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں فریقین کے درمیان ابتدائی بات چیت پاکستان میں ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی فوری آمد اور صدر ٹرمپ کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور آئندہ چند دن خطے کی صورتحال کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

دیکھئیے:امریکہ ایران کشیدگی: چین کا مذاکراتی عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کا اعلان

متعلقہ مضامین

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔

April 20, 2026

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

April 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

April 20, 2026

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور دونوں ممالک کے ساتھ اس کے روابط کو سفارتی عمل میں ایک اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *