واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی امریکی وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا ہے، اور آئندہ چند گھنٹوں میں ان کی پاکستان آمد متوقع ہے۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد پہلے ہی پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا اور مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔
ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت یا بریک تھرو سامنے آتا ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں، جسے مبصرین ایک اہم سفارتی پیشکش قرار دے رہے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے اس نئے دور کی ٹائمنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے دباؤ میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایک بار پھر ان اہم مذاکرات کا مرکز بن چکا ہے، جہاں پاکستان ثالثی کے کردار میں دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں فریقین کے درمیان ابتدائی بات چیت پاکستان میں ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی فوری آمد اور صدر ٹرمپ کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور آئندہ چند دن خطے کی صورتحال کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
دیکھئیے:امریکہ ایران کشیدگی: چین کا مذاکراتی عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کا اعلان