واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہونے کا امکان ہے، اور ذرائع کے مطابق امریکی وفد بدھ کو اسلام آباد میں ایرانی حکام سے دوسرے مرحلے کی بات چیت کرے گا، تاہم شیڈول تاحال حتمی نہیں اور صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں سے وابستہ صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات بدھ کو اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
Vice President JD Vance and the US delegation will land in Pakistan within hours, President Trump just told me — adding that he was willing to meet with senior Iranian leaders if a breakthrough is reached. https://t.co/AoYYJBBjJW
— Caitlin Doornbos (@CaitlinDoornbos) April 20, 2026
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سخت عوامی بیانات کے باعث صورتحال غیر یقینی ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات کے وقت اور نوعیت میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کسی حتمی شیڈول کی تصدیق نہیں کی، تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ وفد جلد روانہ ہونے کی توقع ہے لیکن وقت واضح نہیں۔
New: VP JD Vance is currently expected to depart Washington on Tuesday to travel to Pakistan to take part in the latest round of talks with Iran, people familiar with the plans tell me
— Alayna Treene (@alaynatreene) April 20, 2026
A second round of talks between the US and Iranian delegations are currently planned for…
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی وفد پاکستان کے لیے روانہ ہو رہا ہے اور جلد وہاں پہنچ جائے گا، تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ان کا بیان قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔
صحافی کیٹلن ڈورن بوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت ہوتی ہے تو وہ ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان کو سفارتی حلقوں میں اہم پیشکش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا یہ نیا دور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم دونوں جانب سے سخت بیانات اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔