اسلام آباد: رائٹرز کی جانب سے پاکستان کے مبینہ طور پر 1.5 ارب ڈالر کے اسلحہ اور طیاروں کے معاہدے کو منسوخ کرنے سے متعلق خبر پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے کہنے پر سوڈان کے ساتھ اسلحہ معاہدہ روک دیا، تاہم اس حوالے سے نہ دفتر خارجہ اور نہ ہی آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کے لیے مستند اور آن ریکارڈ ذرائع ناگزیر ہوتے ہیں۔
ذكر مصدران أمنيان باكستانيان ومصدر دبلوماسي أن إسلام اباد أوقفت صفقة بقيمة 1.5 مليار دولار لتوريد أسلحة وطائرات إلى السودان بعد أن طلبت السعودية إلغاء الصفقة وقالت إنها لن تمول عملية الشراءhttps://t.co/sb5224Xc8b
— Reuters | رويترز العربية (@araReuters) April 20, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ مکمل طور پر گمنام ذرائع پر مبنی ہے، جس میں کسی بھی سرکاری مؤقف یا دستاویزی ثبوت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معاہدے کی منسوخی کو بطور حقیقت پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔
مزید یہ کہ مبینہ معاہدہ خود کبھی سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی منسوخی کا دعویٰ بھی قیاس آرائی کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خاموشی کو بنیاد بنا کر پاکستان کے مؤقف یا پالیسی سے متعلق نتیجہ اخذ کرنا پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں سعودی عرب کا ذکر بھی بغیر کسی باضابطہ تصدیق کے شامل کیا گیا ہے، جس پر مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر مصدقہ معلومات خطے میں سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔
حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس معاملے پر متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہیں آتا، اس خبر کو غیر مصدقہ دعویٰ ہی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ حتمی حقیقت یا پالیسی۔