واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری ممکنہ معاہدے کو ماضی کے جوہری معاہدے جے سی پی او اے سے کہیں بہتر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نئی ڈیل عالمی امن اور سلامتی کی ضمانت بنے گی، جبکہ انہوں نے اوباما اور بائیڈن دور کے معاہدے کو امریکا کے لیے “بدترین” قرار دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سابقہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کر رہا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ کے تحت ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں ایران کو 1.7 ارب ڈالر نقد رقم فراہم کی گئی، جسے ایرانی قیادت نے اپنی مرضی سے استعمال کیا، جبکہ اس کے علاوہ بھی بڑی مالی رقوم ایران منتقل کی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی قیادت میں ہونے والی نئی ڈیل نہ صرف اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکا اور دنیا کے دیگر خطوں کے لیے بھی امن، تحفظ اور استحکام کا باعث بنے گی، اور یہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس پر پوری دنیا فخر کرے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی باتیں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت مؤقف سے آئندہ سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔