باجوڑ: باجوڑ اور کنڑ سرحدی علاقے میں برفباری کے دوران ہلاک ہونے والے ایک اور شدت پسند کی شناخت افغان شہری کے طور پر کر لی گئی ہے، جس کے بعد سرحدی صورتحال سے متعلق نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت رسول محمد عرف حماس کے نام سے ہوئی ہے، جو یار محمد کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے گاؤں خواجہ رخیلہ کا رہائشی تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چند روز قبل اس کے آبائی علاقے میں ایک مقامی مسجد میں تعزیتی تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔
Update: An another militant who died during snowfall along the Bajaur–Kunar Border has been identified as an Afghan national, Rasool Muhammad alias Hamas. He was the son of Yar Muhammad and a resident of Khwajarakhailo village in Ahmadabad district, Paktia province, Afghanistan.… https://t.co/GMf2lvAfrh pic.twitter.com/OLy0o8eCVP
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 20, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شدت پسند باجوڑ-کنڑ سرحدی پٹی میں برفباری کے دوران ہلاک ہوا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ سرحدی علاقوں میں حالیہ سرگرمیوں نے سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان شہریوں کی اس نوعیت کے واقعات میں شمولیت سرحدی نگرانی اور دہشت گردی سے متعلق پالیسیوں پر نئے سوالات کھڑے کر رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اکثر کشیدہ رہتی ہے اور ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور نگرانی کا معاملہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
دیکھئیے:آپریشن غضب للحق کے تحت نیمروز میں ڈرون حملہ، ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ