چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا پہلا پاک یورپی تجارتی اشتراک ملک کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور طویل المدتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

April 21, 2026

پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ ‘تیمور’ ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

April 21, 2026

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں بارودی مواد کی برآمدگی اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان پراپیگنڈا اکاؤنٹ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

April 21, 2026

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

April 21, 2026

ستاروں سے آگے کا جہاں: اقبال کے شاہین کا معرکہ حق سے مرکزِ امت تک کا سفر

آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔
اقبال کا یوم وفات

اس ٹریلر نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب دفاعی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ اپنی سرحدوں کی حرمت پر پہرہ دینے والا ایک آہنی قلعہ ہے

April 21, 2026

جس دور میں فکری انتشار کی آندھیاں پرانے بت کدوں کو زمین بوس کر رہی ہوں اور دنیا کے سیاسی نقشے پر طاقت کے توازن کا ترازہ بکھر رہا ہو، وہاں پاکستان کا “مرکزِ ثبات” بن کر ابھرنا محض اتفاق نہیں ، بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے برسوں پہلے دیکھا تھا۔ آج جب ہم شاعرِ مشرق کا یومِ وفات منا رہے ہیں، تو یہ صرف ایک تقویمی یادگار نہیں، بلکہ ایک قومی احتساب کا لمحہ ہے۔ اقبالؒ نے جس ’مردِ مومن‘ اور جس ’بنیان المرصوص‘ کا تصور پیش کیا تھا، کیا آج کا پاکستان اس کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے؟ افق پر ابھرتے ہوئے تازہ واقعات تو یہی گواہی دے رہے ہیں کہ کٹھن سفر کے بعد اب منزل کی لو نظر آنے لگی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب باطل اپنی پوری قوت کے ساتھ حق کو مٹانے کا قصد کرتا ہے، تو قدرت کسی نہ کسی خطے کو حق کا علمبردار بنا دیتی ہے۔ مئی 2025ء کا وہ معرکہ، جسے تاریخ “آپریشن بنیان المرصوص” کے نام سے یاد رکھے گی، صرف ایک فوجی جواب نہیں تھا بلکہ یہ اس خودداری کا اعلان تھا جس کا درس اقبالؒ نے “خودی” کے عنوان سے دیا تھا۔ جب پڑوسی ملک نے جارحیت کے ذریعے پاکستان کی سالمیت کو للکارا، تو شاہینوں کی جھپٹ دانتوں میں انگلیاں دبائے سارے عالم نے دیکھی اور بھارت نے بہت شدت سے محسوس کی۔ جب بھارت کا جدید ترین دفاعی نظام ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گیا تو دنیا نے سمجھا کہ جنگ محض ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جا سکتی، اس کے لئے جذبہ اور ایمان ضروری ہے ۔   

اس ٹریلر نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب دفاعی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ اپنی سرحدوں کی حرمت پر پہرہ دینے والا ایک آہنی قلعہ ہے، جس کے ساتھ الجھنے کا متحمل بھارت صرف فلموں کی حد تک ہو سکتا ہے، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اگر آج کی بات کی جائے تو عالمی سیاست میں پاکستان کا کردار ایک امن پسند طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جو کہ اقبالؒ کے اس شعر کی عملی تفسیر معلوم ہوتا ہے:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

 لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

حالیہ امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران جب پوری دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی اور مشرقِ وسطیٰ شعلوں کی زد میں تھا، پاکستان نے ایک ایسی سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا جس نے عالمی مبصرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔  عالمی اخبارات کی سرخیوں میں گونجتا پاکستان کا نام، بارود اور لہو میں ڈوبی سسکتی انسانیت کے لیے امید کی وہ کرن بنا جس نے ‘جنگِ عظیم سوم’ کا رخ موڑ دیا۔ جب دنیا ہولناک تباہی کے دہانے پر کھڑی مایوس ہو چکی تھی، تب ارضِ پاک نے اپنی موثر حکمت عملی سے دنیا کو سکھ کا وہ لمحہ دیا جس کے لئے سب دعا گو اور منتظر تھے۔

اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس عالمی اعتماد کی سند ہے جو پاکستان نے اپنی غیر جانبدارانہ اور اصولی پالیسیوں سے حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کو “امن کا سفیر” تسلیم کیا ہے۔ جب دنیا کے بڑے ممالک کے ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی ہوائی اڈوں کو سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھ کر یہاں پارک کیا، تو یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ افراتفری کے اس دور میں بھی پاکستان ایک “جزیرہِ امن” ہے۔

اقتصادی محاذ پر گوادر کی بڑھتی ہوئی چہل پہل اور آبنائے ہرمز میں تنازعات کے باعث عالمی تجارتی بحری جہازوں کا رخ پاکستان کی بندرگاہوں کی طرف مڑنا اس بات کی علامت ہے کہ قدرت اس خطے کو وہ مرکزی حیثیت عطا کر رہی ہے جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ وہ گوادر جو کبھی خواب لگتا تھا، آج عالمی تجارت کا دھڑکتا ہوا دل بن چکا ہے۔ اس معاشی استحکام اور سفارتی وقار کا اثر آج سمندر پار پاکستانیوں کی آنکھوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے لیے پاکستانی پاسپورٹ اب محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ فخر اور شناخت کی علامت بن چکا ہے۔

بین المسلمین اتحاد کے حوالے سے پاکستان نے “امتِ واحدہ” کے تصور کو جس طرح آگے بڑھایا ہے، اس نے مسلم دنیا میں پاکستان کو ایک بڑے بھائی اور قائد کا درجہ دے دیا ہے۔ تمام ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی نئی جہتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اب تزویراتی تنہائی سے نکل کر علاقائی استحکام کے ضامن بن چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کا پاکستان پر اعتماد اور ہماری بات کو وزن دینا اس نئے پاکستان کی عکاسی ہے جو اقبالؒ کے خوابوں کا امین ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم تاریخ کے ایک سنہری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اقبالؒ نے جس امت کے لیے “نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر” تک ایک ہونے کی دعا کی تھی، پاکستان آج اس اتحاد کا مرکز و محور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن یہ  ابھی سفر کی شروعات ہے، منزل ابھی بہت دورہے۔ ہمیں اپنی اس شجاعت، صداقت اور امانت کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ رہتی دنیا تک پاکستان کا نام امن اور انصاف کے استعارے کے طور پر زندہ رہے۔

بقول حکیم الامت:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

 ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

 قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر

 چمن اور بھی، آشیاں اور بھی ہیں

آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔

دیکھئیے:قبول دعاؤں جیسا پاکستان

متعلقہ مضامین

چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا پہلا پاک یورپی تجارتی اشتراک ملک کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور طویل المدتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

April 21, 2026

پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ ‘تیمور’ ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

April 21, 2026

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *