انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

April 21, 2026

ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

April 21, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔

April 21, 2026

رائلی روسو نے 62 اور شامل حسین نے 53 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی مگر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہے۔ لاہور قلندرز کے بولرز نے آخری اوورز میں نپی تلی بولنگ کی، جس میں حارث رؤف نے 2 جبکہ شاہین آفریدی، عبید شاہ، سکندر رضا اور اسامہ میر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

April 21, 2026

اسحاق ڈار نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کے قیام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کلیدی اور مثبت کردار کو سراہا۔

April 21, 2026

امریکی صدر کے سخت تیور: جنگ بندی میں توسیع سے انکار، مذاکرات کے علاوہ ایران کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران کا ایک بحری جہاز قبضے میں لیا ہے جو ان کے بقول چین کی جانب سے بھیجے گئے سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس واقعے کو چینی صدر شی جن پنگ سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تند و تیز لہجے میں کہا کہ “جنگ اسی طرح ہوتی ہے” اور اب امریکا ایران میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کا سخت رویہ

سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس وقت انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور ایرانی حکام کے پاس مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھیجنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔

April 21, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور امریکی افواج ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس وقت انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور ایرانی حکام کے پاس مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھیجنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بہترین معاہدے پر پہنچیں گے کیونکہ ایران کے پاس اب مزید کوئی آپشن نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران کا ایک بحری جہاز قبضے میں لیا ہے جو ان کے بقول چین کی جانب سے بھیجے گئے سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس واقعے کو چینی صدر شی جن پنگ سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تند و تیز لہجے میں کہا کہ “جنگ اسی طرح ہوتی ہے” اور اب امریکا ایران میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔

دوران انٹرویو امریکی صدر نے آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی ختم ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں بچا اور وہ اسے طول دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے ان بیانات سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں شدید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ ایران کی جانب سے تاحال ان دھمکیوں پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دیکھئیے:اسلام آباد میں بارودی مواد اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان اکاؤنٹ کا پراپیگنڈا بے بنیاد قرار

متعلقہ مضامین

انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

April 21, 2026

ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

April 21, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *