اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کی جانب سے باضابطہ تصدیق کا تاحال انتظار ہے، جبکہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کی علی الصبح ختم ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مذاکرات کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
The situation as it stands at 1930 PST
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) April 21, 2026
1. Formal response from Iranian side about confirmation of delegation to attend Islamabad Peace Talks is still awaited.
2. Pakistan as the mediator is in constant touch with Iranians and pursuing the path of diplomacy and dialogue.
3.…
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ان مذاکرات کا انعقاد ناگزیر ہے اور پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کے حالیہ سخت بیانات اور ایران کی جانب سے خاموشی کے باعث مذاکراتی عمل پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
سفارتی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق وقت کی کمی تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کوئی حتمی فیصلہ کرے۔ پاکستان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اب ایرانی جواب کا منتظر ہے، اور اگر ڈیڈ لائن تک وفد کی آمد یقینی نہ بنائی گئی تو خطے میں دوبارہ کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دیکھئیے:پاکستانی فوج اور حساس اداروں میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد، کالعدم تنظیم کا پروپیگنڈا بے نقاب