عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی بقا کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

April 21, 2026

اگر ایران نے مقررہ ڈیڈ لائن تک وفد بھیجنے کا اعلان نہ کیا تو چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

April 21, 2026

انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

April 21, 2026

ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

April 21, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔

April 21, 2026

اسلام آباد مذاکرات: ایران کا وفد بھیجنے سے انکار نہیں لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، تہران کا امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار

انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے بیان

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا یقین نہیں ہوگا، ایران شرکت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔

April 21, 2026

تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ واشنگٹن کی حالیہ جارحانہ کارروائیاں اس کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا یقین نہیں ہوگا، ایران شرکت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران شروع سے ہی امریکا پر عدم اعتماد کا شکار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 40 دنوں کے دوران جارح فریق اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کے اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ ایران کا موقف ہمیشہ ذمہ دارانہ رہا ہے، تاہم سفارتی عمل کا بامقصد ہونا ضروری ہے اور تہران اپنی قوم سے اس حوالے سے مکمل شفافیت برقرار رکھے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا میں مذاکرات کے حوالے سے بہت سی غلط بیانیاں کی جا رہی ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، اسے سرکاری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے گا، تاہم فی الوقت کسی وفد کی روانگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق ایران کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات اور بحری جہاز قبضے میں لینے کے واقعے کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ تصور کر رہا ہے۔

دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات میں تعطل: امریکی نائب صدر کے دورہ پاکستان میں تاخیر، واشنگٹن میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہنگامی مشاورت جاری

متعلقہ مضامین

عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی بقا کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

April 21, 2026

اگر ایران نے مقررہ ڈیڈ لائن تک وفد بھیجنے کا اعلان نہ کیا تو چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

April 21, 2026

ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

April 21, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *