اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں شیڈول مذاکرات کا دوسرا دور تاحال غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں واشنگٹن کی بھرپور تیاریوں کے باوجود تہران کی جانب سے حتمی جواب نہ ملنے نے سفارتی عمل کو ایک پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہوتا تو آج بدھ کے روز امریکی اور ایرانی مذاکرات کار اسلام آباد میں ایک میز پر موجود ہوتے۔ پاکستان نے پہلے دور کے بعد پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے اس دوسرے راؤنڈ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں۔ واشنگٹن میں بھی اس حوالے سے سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی میامی سے روانگی طے تھی، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ بھی اڑان بھرنے کے لیے تیار تھا۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات اس سطح کے تھے جو عام طور پر امریکی صدر کی آمد پر کیے جاتے ہیں، جس سے یہ اشارہ مل رہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر صدر ٹرمپ خود بھی پہنچ سکتے تھے۔
Let me piece together key developments of the past few hours to understand where things stand.
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) April 22, 2026
If all went as per plan, the US & Iranian negotiators would have been in a huddle today (Wednesday), seeking to thrash out a potential deal.
Pakistan was confident as it had done a…
صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب امریکی وفد کی روانگی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے ایران کو کچھ نئی تجاویز ارسال کیں اور ان پر واضح جواب کا مطالبہ کیا۔ امریکا چاہتا تھا کہ دوسرے دور میں محض رسمی گفتگو کے بجائے کسی حتمی تصفیے کی جانب پیش رفت ہو۔
ابتدائی طور پر ایران اس کے لیے آمادہ دکھائی دیا، مگر عین وقت پر تہران کے سرکاری میڈیا اور حکام کی جانب سے پیچھے ہٹنے کے اشارے ملنے لگے۔ ایک جائزے کے مطابق ایران کے اندر سخت گیر حلقے ممکنہ معاہدے کو ‘دستاویزِ تسلیم’ قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اصل مسئلہ نہیں تھی، کیونکہ امریکا مذاکرات کے دوران اعتماد سازی کے لیے اسے عارضی طور پر ختم کرنے پر راضی تھا۔ اصل رکاوٹ تہران میں فیصلہ سازی کا سست عمل اور سپریم لیڈر تک پیغامات کی رسائی ہے، جو مبینہ طور پر صرف کوریئرز کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اگرچہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت اشارہ ہے اور فوری تناؤ میں کمی آئی ہے، لیکن تہران کی جانب سے ابھی تک اس توسیع پر بھی کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سفارتی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی مخلصانہ کوششیں اب بھی آخری لمحات کے بریک تھرو کے لیے جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ‘ابھی کچھ ختم نہیں ہوا’ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات اور مواصلاتی خلیج کسی بھی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔ جب تک دونوں اطراف سے ٹھوس یقین دہانیاں سامنے نہیں آتیں، خطہ اسی طرح کی سفارتی کشمکش اور غیر یقینی کی گرفت میں رہے گا۔