واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ اسرائیل اور لبنان کے سفرا سے ہونے والی ملاقات انتہائی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اسے حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے پاک اور محفوظ بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کے منتظر ہیں۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لائٹر نے اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان آج ایک دوسرے کے جتنے قریب ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے قیامِ امن کے لیے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی موقع کا دہائیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب امریکہ میں لبنان کی سفیر نادا حمادہ معوّض نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی اسی طرح حمایت جاری رہی تو لبنان کو دوبارہ ایک عظیم اور مستحکم ملک بنایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی میں یہ توسیع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس مہلت سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کو ٹھوس بنیادیں فراہم ہوں گی۔