پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پاکستان کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

April 24, 2026

افغانستان میں ‘اقلیت’ اور ‘اکثریت’ کے تصورات محض مفروضوں پر مبنی ہیں جنہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2010 کی دہائی میں ادارہ شماریات کے سربراہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ سیاست دانوں نے ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا جن میں ان کے گروہ کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔

April 24, 2026

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 24, 2026

یونیورسٹی آف لاہور کی حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنے اور پاک ایران سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

April 24, 2026

پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے چین کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک نیا اور محفوظ تجارتی راستہ فعال کر دیا ہے۔ کرغزستان سے آنے والی پہلی تجارتی کھیپ سوست ڈرائی پورٹ پہنچ گئی ہے، جس سے وسطی ایشیا کی کراچی بندرگاہ تک براہِ راست رسائی ممکن ہو گئی ہے۔

April 24, 2026

پاک چین تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کی 68 روزہ طویل جدوجہد بالآخر کامیاب ہوگئی۔ سوست بارڈر پر معروف تاجر جلال الدین کی پہلی ٹیکس فری کنسائمنٹ پہنچ گئی ہے، جس پر متعلقہ کے مطابق تمام ٹیکسز معاف کر دیے گئے ہیں۔ اس پیشرفت سے خطے میں اشیاءِ ضرورت اب چین کی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔

April 24, 2026

ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان کے سفراء سے اہم ملاقات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں 21 روز کی توسیع کا اعلان کر دیا۔ اسرائیلی اور لبنانی سفرا نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے قیامِ امن کے لیے امریکی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

April 24, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ اسرائیل اور لبنان کے سفرا سے ہونے والی ملاقات انتہائی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اسے حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے پاک اور محفوظ بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کے منتظر ہیں۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لائٹر نے اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان آج ایک دوسرے کے جتنے قریب ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے قیامِ امن کے لیے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی موقع کا دہائیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب امریکہ میں لبنان کی سفیر نادا حمادہ معوّض نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی اسی طرح حمایت جاری رہی تو لبنان کو دوبارہ ایک عظیم اور مستحکم ملک بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی میں یہ توسیع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس مہلت سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کو ٹھوس بنیادیں فراہم ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پاکستان کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

April 24, 2026

افغانستان میں ‘اقلیت’ اور ‘اکثریت’ کے تصورات محض مفروضوں پر مبنی ہیں جنہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2010 کی دہائی میں ادارہ شماریات کے سربراہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ سیاست دانوں نے ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا جن میں ان کے گروہ کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔

April 24, 2026

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 24, 2026

یونیورسٹی آف لاہور کی حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنے اور پاک ایران سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

April 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *