اسلام آباد: افغانستان کی نسلی سیاست اور آبادی کے اعداد و شمار کے حوالے سے ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔ برطانوی نژاد افغان تجزیہ کار اور انسانی حقوق کی سرگرم رہنما شبنم نسیمی نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تاریخ میں آج تک ایک بار بھی مکمل قومی مردم شماری نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق، ملک پر دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے گروہوں نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے تاکہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکیں۔
Afghanistan has never conducted a national census.
— Cyborg 🇵🇰🍁 (@cyborg_reborn) April 23, 2026
A UN-backed census effort was also abandoned in 1979 by Taraki. Forms were burned and 80 census workers were killed out of fear that it would challenge the dominance of ruling Pashtun minority.
More shocking details by Shabnam: pic.twitter.com/VrpoQEyKax
شبنم نسیمی کون ہیں؟
شبنم نسیمی 1991 میں افغانستان میں پیدا ہوئیں اور بچپن میں طالبان کے دورِ حکومت میں وہاں سے ہجرت کر کے برطانیہ منتقل ہو گئیں۔ وہ افغان سیاست، تاریخ اور خواتین کے حقوق پر ایک مستند آواز سمجھی جاتی ہیں۔ شبنم نسیمی برطانیہ کے وزیر برائے مہاجرین کی مشیر رہ چکی ہیں اور اس وقت ‘فرینڈز آف افغان ویمن نیٹ ورک کی سربراہ ہیں اور بی بی سی اور ٹائمز جیسے بڑے اداروں میں عالمی امور پر تجزیے پیش کرتی ہیں۔
مردم شماری روکنے کی پہلی بڑی سازش (1970 کی دہائی)
شبنم نسیمی کے مطابق افغانستان میں مردم شماری کی پہلی سنجیدہ کوشش 1973 میں شروع ہوئی جب مرکزی ادارہ شماریات قائم کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے تعاون سے 1975 میں پورے ملک کی نقشہ سازی کی گئی اور ہزاروں ملازمین کو تربیت دی گئی۔ تاہم، جون 1979 میں اس وقت کے کمیونسٹ صدر نور محمد ترہ کی (جو خود پشتون تھے) نے ریڈیو اور ٹی وی پر اعلان کر کے مردم شماری کے فارم سے ‘نسلیت’ کا خانہ ختم کروا دیا۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر درست اعداد و شمار سامنے آ گئے تو پشتونوں کی اکثریت کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے گا۔
مردم شماری کے عملے کا قتل اور ریکارڈ کو آگ لگانا
اس مہم کے دوران بدخشان جیسے صوبوں میں مردم شماری کے تمام فارمز کو جلا دیا گیا اور ملک بھر میں اس عمل میں شامل تقریباً 80 ملازمین کو قتل کر دیا گیا۔ 2001 کے بعد بن معاہدے میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ 2008 تک اقوامِ متحدہ کے تعاون سے مردم شماری مکمل کی جائے گی، لیکن اسے بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا۔ اس دوران ایک اعلیٰ عہدیدار کو شدت پسندوں نے نشانہ بنا کر ہلاک بھی کیا۔
جمہوریت کے دور میں مردم شماری سے گریز
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2021 کے درمیان حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں، جب ملک میں نیٹو افواج موجود تھیں اور کھربوں ڈالرز کی امداد آ رہی تھی، مردم شماری کرنا تکنیکی طور پر ممکن تھا۔ تاہم، ان پشتون صدور نے بھی اسے سیاسی وجوہات کی بنا پر روکا۔ انہیں خوف تھا کہ اگر آبادی کے اصل تناسب کا پتہ چل گیا تو نسلی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور برسوں سے قائم سیاسی تسلط خطرے میں پڑ جائے گا۔
تاریخی تناظر اور ‘مبھم اعداد و شمار’ کی حکمتِ عملی
مشہور مورخ پروفیسر تھامس بارفیلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انیسویں صدی سے ہی افغان حکمرانوں نے آبادی کے ڈیٹا کو جان بوجھ کر مبہم رکھا ہے۔ یہ ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے تاکہ ‘اکثریت’ کا افسانہ برقرار رکھا جا سکے۔ یہاں تک کہ 2010 کی دہائی میں ادارہ شماریات کے سربراہ نے اعتراف کیا تھا کہ سیاست دانوں نے ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا جن میں ان کے قبیلے یا قوم کی تعداد دعووں سے کم دکھائی گئی تھی۔
ماہرین کی رائے اور تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مردم شماری کا نہ ہونا صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق جب تک ملک میں شفاف مردم شماری نہیں ہوتی، تب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستحکم سیاسی نظام کا قیام ناممکن ہے۔
سیاسی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان میں ‘اقلیت’ اور ‘اکثریت’ کے تصورات محض مفروضوں پر مبنی ہیں جنہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2010 کی دہائی میں ادارہ شماریات کے سربراہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ سیاست دانوں نے ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا جن میں ان کے گروہ کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔ جب تک حقائق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، افغانستان میں نسلی بنیادوں پر موجود خلیج کو پر نہیں کیا جا سکے گا۔
دیکھئیے:ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن؛ ‘فتنہ الخوارج’ کے 22 دہشت گرد جہنم واصل