کراچی میں چینی اساتذہ پر شاری بلوچ کا خودکش حملہ کسی ‘مقصد’ کی کامیابی نہیں بلکہ تعلیم اور مستقبل کی تباہی کی علامت ہے. یاد رہے کہ شاری بلوچ کو خودکش حملے کے لیے آلہ کار بنانا کوئی تمجید کا پہلو نہیں بلکہ یہ اس تباہ کن حقیقت کی علامت ہے کہ دہشت گردی کس طرح انسانی زندگیوں، حقائق اور قوم کے مستقبل کو ملیا میٹ کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب انتہا پسندی پروان چڑھتی ہے تو سب سے پہلے انسانیت اور شعور کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں حملہ
یہ واقعہ محض ایک عسکری کاروائی نہیں تھی بلکہ اس کا ہدف وہ چینی اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم تھے جو پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں میں اپنا حصہ ڈالنے آئے تھے۔ اساتذہ اور درس گاہوں کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں اس نام نہاد “مقصد” پر سوالیہ نشان ہیں جو علم کے خلاف جنگ کو اپنی بنیاد بناتا ہے۔ اس کے براہِ راست منفی اثرات ان بلوچ طلبہ پر مرتب ہو رہے ہیں جن کے لیے ملک کے دیگر صوبوں میں تعلیم اور ترقی کے وسیع مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
طلبہ تنظیمیں اور انتہا پسندی کی آبیاری
تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بی ایس سی اور بی ایس اے سی جیسے بعض طلبہ پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے نوجوانوں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس نوجوانوں کو جذباتی طور پر مغلوب کر کے انہیں غیر ملکی ایجنڈوں کے لیے بطور “ایندھن” تیار کیا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دینے کے بجائے نفرت اور تشدد پر مبنی بیانیہ تھما دیا جاتا ہے، جو ان کی زندگیوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
خواتین کا استحصال اور خطرناک رجحانات
رپورٹس کے مطابق بی وائی سی کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دہشت گردانہ حملوں میں خواتین کو خودکش بمبار کے طور پر بھرتی کرنے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ عمل نہ تو حقوق کی جنگ ہے اور نہ ہی خواتین کی خود مختاری، بلکہ یہ غیر ملکی ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے صنفِ نازک کا بدترین استحصال ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک لہر ہے جو معاشرتی اقدار اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بروقت مداخلت کی ضرورت اور سماجی ذمہ داری
اگر شاری بلوچ کے حوالے سے سامنے آنے والی علامات پر بروقت توجہ دی جاتی اور فکری مداخلت کی جاتی تو ایک قیمتی زندگی کو دہشت گردی کی نذر ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔ شاری بلوچ جیسی تعلیم یافتہ خاتون کا اس راستے پر نکلنا بااختیار ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کا ضیاع ہے۔ کسی بھی سیاسی گروہ بندی یا نظریاتی اختلاف کی آڑ میں اساتذہ کا قتل اور غیر ملکی مہمانوں کو نشانہ بنانا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
نتیجہ فکر
حقیقی طاقت تعمیرِ ملت اور تعلیمی ترقی میں ہے، نہ کہ تخریبی سرگرمیوں میں۔ نوجوانوں کو اس المناک راستے سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسندانہ بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کر کے ایک روشن مستقبل کی ضمانت دی جائے