معروف عالمی جریدے ‘مڈل ایسٹ آئی’ نے معروف تجزیہ نگار کیتھی گینن کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ شائع کی ہے، جس میں پاکستان کے بدلتے ہوئے عالمی کردار کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان جسے کبھی عالمی معاملات میں ایک حاشیائی کھلاڑی سمجھا جاتا تھا، اب ایک طاقتور سفارتی اور عسکری قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران اور امریکہ کو نصف صدی بعد بالواسطہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عسکری اور سفارتی کامیابی
کیتھی گینن کے تجزیے کے مطابق پاکستان کی یہ تبدیلی محض روایتی سفارت کاری کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والے مختصر مگر فیصلہ کن تنازع میں حاصل ہونے والی عسکری برتری پر قائم ہے۔ اس تصادم نے جنوبی ایشیا میں بھارتی عسکری غلبے کے دیرینہ مفروضوں کو زمین بوس کر دیا، جس کے بعد عالمی برادری اب پاکستان کو ایک “بوجھ” کے بجائے خطے میں “استحکام فراہم کرنے والی کلیدی قوت” کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
جیوپولیٹیکل اور تزویراتی تعلقات
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عسکری کامیابیوں کو انتہائی مہارت کے ساتھ سفارتی سرمائے میں تبدیل کیا ہے۔ واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات، بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات میں مزید پختگی، اور سعودی عرب، لیبیا و مصر کے ساتھ ہونے والے وسیع تر دفاعی معاہدے اسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اب پاکستان ایک ایسے منفرد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جو واشنگٹن، بیجنگ اور خلیجی ممالک کے درمیان بیک وقت پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
داخلی استحکام اور علاقائی کشیدگی
تجزیے کے مطابق ان سفارتی فتوحات نے پاکستان کے قومی اعتماد میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، جس سے ریاستی اداروں کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ تاہم، پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے قد کاٹھ نے خطے میں نئی مسابقت کو بھی جنم دیا ہے۔ بھارت نے اس صورتحال کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی و سفارتی روابط تیز کر دیے ہیں، جس کے باعث جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک نقشہ مزید پیچیدہ اور حساس ہو گیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
کیتھی گینن نے پاکستان کی اس پیش رفت کو ایک “دو دھاری تلوار” سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دنیا کو اپنے بارے میں پرانے تصورات بدلنے پر تو مجبور کر دیا ہے، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ اس بڑی تبدیلی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ رپورٹ کے اختتام پر متنبہ کیا گیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اب کوئی بھی بحران صرف ان تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ اتحادیوں اور عالمی مفادات کے ایک ایسے جال کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جسے کنٹرول کرنا کسی ایک فریق کے بس میں نہیں ہوگا۔